کراچی کے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی آؤٹ بریک کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 120 تک پہنچ گئی ہے جبکہ صوبائی وزیر سعید غنی نے ملوث افراد کے خلاف فرسٹ انفارمیشن پورٹ (ایف آئی آر) اور جیل کارروائی کا اعلان کر دیا۔
صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کے معاملے پر حکومت نے ابتدا ہی سے فوری اقدامات کیے تاہم یہ تاثر غلط ہے کہ اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی
انہوں نے کہا کہ اب تک ولیکا اسپتال اور اس کے اطراف 10 ہزار 500 سے زائد افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، جن میں 120 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے تاہم متاثرہ بچوں کا علاج ملک کے پانچ بڑے اسپتالوں میں جاری ہے، اکتوبر 2025 میں کیسز سامنے آتے ہی محکمہ صحت کی سی ڈی سی ٹیم نے اگلے ہی روز اسکریننگ شروع کر دی تھی جبکہ چند روز میں انکوائری کمیٹی بھی قائم کر دی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹ میں 16 بچوں میں ایچ آئی وی اور دو اموات کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ بعد ازاں دوسری انکوائری رپورٹ میں 78 تصدیق شدہ کیسز اور 6 اموات سامنے آئیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اس وقت تک 37 ڈاکٹرز اور ملازمین کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، ملوث افراد کو نہ صرف ملازمت سے برطرف کیا جائے گا بلکہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
سعید غنی نے کہا کہ متاثرہ بچوں کے علاج اور فلاح و بہبود کے لیے دو ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر اس فنڈ میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سندھ ایچ آئی وی کنٹرول ایکٹ 2006 کے تحت متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کی شناخت خفیہ رکھنا قانونی ذمہ داری ہے تاکہ وہ سماجی مسائل سے محفوظ رہ سکیں۔
وزیر محنت نے بتایا کہ 120 متاثرہ افراد میں سے 81 سوشل سیکیورٹی کے رجسٹرڈ مستحق ہیں، 39 افراد رجسٹرڈ نہ ہونے کے باوجود حکومت ان کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لانڈھی سوشل سیکیورٹی اسپتال میں بھی تقریباً 2 ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی جہاں 10 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت متاثرین کی تعداد بڑھنے کے خدشے کے باوجود اسکریننگ کا عمل ہرگز نہیں روکے گی کیونکہ بروقت تشخیص ہی بیماری پر قابو پانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اب تک سامنے آنے والے تمام کیسز اکتوبر 2025 سے پہلے کے ہیں اور اس کے بعد اس نوعیت کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
میڈیکل ویسٹ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ طبی فضلہ تلف کرنے کا نظام موجود ہے تاہم بعض عناصر مفادات کی خاطر اس پر عمل نہیں کرتے، ایسے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے
اس موقع پر انڈس اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی دونوں کی شرح تشویش ناک ہے اور اس پر حکومت، طبی اداروں اور متعلقہ شعبوں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔
آغا خان اسپتال کے ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ایک اسپتال یا ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ مختلف علاقوں اور نجی کلینکس میں بھی انفیکشن کنٹرول پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
THE PUBLIC POST