شاہ غلام قادر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا

‎مظفرآباد: مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر نامزد کیے جانے کا فیصلہ مسترد کر دیا۔
شاہ غلام قادر نے پارٹی قائد میاں نواز شریف کی جانب سے بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم نامزد کیے جانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ افتخار گیلانی کو ووٹ دیں گے نہ ہی وزیراعظم کے انتخاب کے لیے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

‎مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے ذرائع کے مطابق جماعت کے صدر شاہ غلام قادر نے پارٹی قیادت کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر منتخب رکن قانون ساز اسمبلی بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم کے منصب کے لیے قابل قبول نہیں سمجھتے۔

ذرائع مسلم لیگ (ن) کے مطابق شاہ غلام قادر پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور کارکنان سے مشاورت کے بعد آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

‎مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق جماعت کے صدر شاہ غلام قادر آج بھی مسلم لیگ (ن) کے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے پر کاربند ہیں۔

شاہ غلام نے کہا کہ ‎آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کی عزت، رائے اور وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، میاں نواز شریف کے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے بیانیے کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔

‎پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اہم اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں بھی بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر بنانے کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

دونوں رہنماؤں نے واضح طور پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے افتخار گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے قبول کرنے سے انکار کیا۔

‎ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی اور وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے پارٹی کے اندر موجود اختلافات اور تحفظات پر بھی بات چیت ہوئی۔

اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی قیادت اور دیگر اہم رہنماؤں سے مشاورت کی گئی، تاہم شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر نے اپنے تحفظات برقرار رکھے۔

‎آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کو مینڈیٹ دیا ہے اور اس مینڈیٹ کا احترام ہر سطح پر ضروری ہے، پارٹی کارکنان اور سینئر قیادت کو اعتماد میں لے کر آئندہ کا فیصلہ کریں گے اور کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جس سے عوامی مینڈیٹ یا ووٹ کی حرمت متاثر ہو۔

‎مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ شاہ غلام قادر نے جمعہ کو وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کے لیے بلائے گئے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں سے بھی مزید مشاورت جاری ہے جبکہ آئندہ چند گھنٹوں میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے اندر صورت حال مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

‎پارٹی ذرائع کے مطابق شاہ غلام قادر کی جانب سے پارٹی قائد میاں نواز شریف کے فیصلے سے اختلاف کے بعد مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں نئی سیاسی صف بندی کا امکان پیدا ہو گیا ہے، پارٹی کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان مشاورت جاری ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

‎مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے اندر وزیراعظم کے امیدوار کے حوالے سے سامنے آنے والے اختلافات نے حکومت سازی کے عمل کو نئی سیاسی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔

Check Also

رحمتِ عالم ﷺ کی ولادت کا دن ہے یہ دن ہمیں سچائی، محبت، اخوت اور انسانیت کا درس دیتا ہے،حناثانی

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) معروف فنکارہ حنا ثانی نے کہا ہے کہ 12 ربیع الاول …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *