’انسانیت ختم ہوسکتی ہے‘سابق گوگل ڈیپ مائنڈ محقق کا اے آئی سے متعلق بڑا انتباہ

گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق ملازم بلال چغتائی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت انسانیت کیلئے انتہائی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

بلال چغتائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں گوگل ڈیپ مائنڈ سے استعفیٰ دیا ہےجہاں وہ مصنوعی جنرل انٹیلی جنس (AGI) کی حفاظت اور اس کی انسانی اقدار سے ہم آہنگی سے متعلق تحقیق پر کام کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سنجیدگی سے یقین رکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت میں پوری انسانیت کو ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور ممکن ہے کہ اس انجام سے بچنے کیلئے دستیاب وقت تیزی سے کم ہورہا ہو۔

بلال چغتائی نے گوگل ڈیپ مائنڈ میں ریسرچ انجینئر کے طور پر کام کیا اور وہاں رہتے ہوئے تحقیقی مقالوں میں بھی شریک مصنف رہے۔ ان کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق انہوں نے جولائی 2026 میں گوگل ڈیپ مائنڈ چھوڑ دیا تھا۔

بلال چغتائی نے اپنے مؤقف میں کیا کہا؟
بلال چغتائی کے مطابق مصنوعی ذہانت کو محفوظ انداز میں آگے بڑھانے کا راستہ موجود ہے تاہم اس کیلئے اے آئی کمپنیوں کے درمیان جاری تیز رفتار مقابلے کے بجائے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کی ایسی رفتار درکار ہے جسے معاشرہ سنبھال سکے اور جس دوران سامنے آنے والے خطرات کا جائزہ لے کر انتہائی نقصان سے پہلے ان کا تدارک کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اے آئی کی ترقی کی رفتار بہت زیادہ تیز رہی اور خطرات سے نمٹنے کیلئے مناسب وقت نہ ملا تو صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔

اے آئی کے خطرات پر ماہرین کی تشویش
مصنوعی ذہانت کے ممکنہ تباہ کن اثرات کے بارے میں عوامی سطح پر تشویش اس وقت مزید بڑھ گئی جب اینتھروپک کے محقق جیکب کوکسن نے گزشتہ ہفتے اپنے استعفے کے حوالے سے بتایا کہ اے آئی تیار کرنے والے بعض افراد سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی رواں دہائی کے اختتام تک تمام انسانوں کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔

جیکب کوکسن کے بیان کے بعد اینتھروپک کے سائنسدان ایون ہیوبنگر نے بھی ان کے مؤقف پر ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیکب کوکسن کی بات درست ہے اور ان کے خیال میں اگلی دہائی کے دوران مصنوعی ذہانت کی وجہ سے پوری انسانیت کے ختم ہونے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

اس صورتحال کے بعد اے آئی کی تیز رفتار ترقی، اس سے وابستہ خطرات اور ٹیکنالوجی کی دوڑ کے حوالے سے بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔

اے آئی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ
مصنوعی ذہانت سے متعلق حالیہ خدشات کے بعد اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو اموڈی نے بھی جدید اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاریو اموڈی کی جانب سے جدید مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار سست کرنے کی اپیل کو اسپیس ایکس اے آئی کے ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹ مین کی جانب سے بھی حمایت ملی۔

اس کے بعد مصنوعی ذہانت کے خطرات کے بارے میں جاری بحث میں ’اے آئی ڈومر ازم‘ کے حوالے سے بھی گفتگو شروع ہوگئی ہے۔ اس اصطلاح کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے انتہائی خطرناک یا تباہ کن مستقبل کے خدشات کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

ٹرمپ نے انتباہات مسترد کردیئے
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ضابطوں اور قواعد کے مطالبے کو مسترد کیا ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اے آئی انڈسٹری کی جانب سے ضابطہ کاری کے مطالبے کو ’دھوکا‘ قرار دیا۔

مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے بیانات کے برعکس ٹرمپ کا مؤقف اے آئی صنعت پر مزید ضابطے عائد کرنے کے مطالبے سے مختلف ہے۔

اے آئی کے مستقبل، اس کی رفتار اور ممکنہ خطرات پر بحث ایسے وقت میں جاری ہے جب ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں جدید مصنوعی ذہانت اور مصنوعی جنرل انٹیلی جنس کی تیاری پر کام کررہی ہیں جبکہ اس شعبے سے وابستہ بعض محققین ٹیکنالوجی کے ممکنہ انتہائی خطرات پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

Check Also

مشرقی کانگو کے شہر بوکاوو میں خوفناک آتشزدگی، 2 اسکول، 300 گھر جل کر راکھ، 29 طلبہ ہلاک

وسطی افریقا کے ملک مشرقی کانگو کے شہر بوکاوو میں خوفناک آتشزدگی کا واقعہ رونما …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *