رپورٹ : عمران خان
کراچی میں کسٹمز حکام نے چاول کے سرکے کی آڑ میں ای لیکوئڈ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔ چین سے آنے والے کنٹینر میں ہزاروں کلو گرام رائس ونیگر ظاہر کیا گیا، تاہم جانچ کے دوران بوتلوں پر لگے لیبل کے نیچے چینی زبان میں موجود دوسرے لیبل نے اصل مال کا راز فاش کردیا۔ کسٹمز نے درآمد کنندہ اور کلیئرنگ ایجنٹ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
چین سے آنے والے کنٹینر میں 16 ہزار 504 کلوگرام رائس ونیگر ظاہر کیا گیا، لیکن تفصیلی جانچ کے دوران کسٹمز حکام کو بوتلوں پر لگے اسٹیکرز مشکوک نظر آئے۔اسٹیکرز ہٹانے پر نیچے چینی زبان میں دوسرا لیبل موجود تھا، جس پر مال کو 30 ملی گرام نکوٹین اور پائن ایپل فلیور والے تمباکو پراڈکٹ کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔
کسٹمز حکام نے نمونے لیبارٹری بھجوائے تو رپورٹ نے معاملہ مزید واضح کردیا۔لیبارٹری کے مطابق ایک سیمپل واقعی رائس ونیگر تھا، تاہم دوسرے سیمپل میں گلیسرین، پروپلین گلائکول، نکوٹین اور فروٹی فلیور موجود تھا، یعنی یہ ویپنگ کے لیے استعمال ہونے والا ای لیکوئڈ نکلا۔
ایف آئی آر کے مطابق درآمدی مال کی تفصیل، مقدار اور مالیت کے بارے میں گراس مس ڈیکلریشن کی گئی۔غلط ڈیکلریشن کے ذریعے صرف 6 لاکھ 34 ہزار 847 روپے ڈیوٹی و ٹیکس ادا کیے گئے، جبکہ کسٹمز کے مطابق مال کی مالیت 21 لاکھ 54 ہزار روپے اور قابلِ ادا ڈیوٹی و ٹیکس 3 کروڑ 33 لاکھ 84 ہزار روپے سے زائد بنتی ہے۔
کسٹمز اپریزیمنٹ ویسٹ نے ایف آئی آر نمبر 04/2026 درج کرکے درآمد کنندہ اور کلیئرنگ ایجنٹ کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کے مطابق مقدمے میں دیگر ممکنہ سہولت کاروں اور ملوث افراد کا کردار بھی تفتیش کے دوران سامنے لایا جائے گا، جبکہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
THE PUBLIC POST