امریکی حملوں کے بعدیو اے ای اور ایران کے درمیان برف پگھلنے لگی

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کے حکام کے درمیان تہران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی ملاقات ہوئی، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ہونے والی یہ ملاقات اس بڑھتے ہوئے ادراک کا نتیجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان نسبتاً مستحکم تعلقات خطے کے مفاد میں ہیں۔

حساس نوعیت کے معاملے پر گفتگو کرنے والے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ملاقات دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح تبدیلی کی عکاس ہے۔

امریکی رپورٹ کے مطابق یو اے ای کی قیادت اپنی وسیع اقتصادی منصوبہ بندی کو متاثر ہونے سے بچانا چاہتی ہے، جس میں تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ڈیٹا سینٹرز کا قیام شامل ہے۔

دوسری جانب ایران کے لیے بھی یہ تعلقات اہم ہیں کیونکہ جنگ سے قبل متحدہ عرب امارات اسلامی جمہوریہ ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتا تھا اور پابندیوں کا شکار ایرانی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ بھی تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ابوظہبی کا حالیہ رابطہ بنیادی طور پر اس خواہش کے تحت کیا گیا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کی جائے۔ اگرچہ یو اے ای ایرانی حکومت کو اپنا حریف سمجھتا ہے، تاہم اسے یہ احساس بھی ہے کہ موجودہ نظام کو اقتدار سے ہٹایا جانا ممکن نظر نہیں آتا۔

فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات پر کیے۔ جواب میں ابوظہبی نے بھی متعدد کارروائیاں کیں اور عرب ممالک میں ایران کے خلاف سب سے سخت مؤقف اختیار کیا۔

تاہم اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یو اے ای بھی قطر اور سعودی عرب کی طرح سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے۔

سعودی عرب، جس کی توانائی تنصیبات اور فوجی اڈے حملوں کا نشانہ بنے، نے اپریل کے آغاز میں وزیر خارجہ کی سطح پر تہران سے دوبارہ رابطے بحال کیے تھے۔

قطر، جس کی رأس لفان گیس تنصیب ایک بڑے حملے سے متاثر ہوئی، ایران کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں میں سب سے زیادہ سرگرم رہا ہے۔ گزشتہ ماہ قطر نے ایرانی وفد کی میزبانی بھی کی تھی اور اب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تینوں عرب ممالک اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ خلیج فارس کے دوسری جانب واقع تقریباً 9 کروڑ آبادی اور نمایاں فوجی طاقت رکھنے والے ایران کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں بقائے باہمی ناگزیر ہے، خواہ امریکا اور اسرائیل کی بمباری سے اسے شدید نقصان ہی کیوں نہ پہنچا ہو۔

ایرانی حملوں نے دبئی اور ابوظہبی کے عالمی مالیاتی مراکز بننے کے عمل کو بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔ تنازع کے باعث تیل کی فروخت اور سیاحت متاثر ہوئی، جو یو اے ای کی معیشت کے دو اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔

حالیہ ملاقات دراصل ایران کی جانب سے ابوظہبی کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات بحال کرنے کی متعدد کوششوں کا نتیجہ تھی۔ یو اے ای نے ابتدا میں اس وقت تک انتظار کیا جب تک اسے یہ یقین نہ ہو گیا کہ رابطے کرنے والے افراد کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور طاقتور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست روابط موجود ہیں۔

جنگ کے دوران ایران کی کئی اہم شخصیات ہلاک ہوئیں جن میں مجتبیٰ خامنہ ای کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔ امریکی حکام اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ موجودہ ایرانی قیادت کے اصل اختیارات اور فیصلہ سازی کے مراکز کا تعین کرنا مشکل ہے۔

جنگ کے دوران ایران اور یو اے ای کے درمیان اس سے قبل صرف ایک رابطہ سامنے آیا تھا، جو اپریل کے وسط میں جنگ بندی کے فوراً بعد ہوا۔

اس موقع پر یو اے ای کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید نے ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف سے گفتگو کی تھی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اسی ٹیلیفونک رابطے اور بعد ازاں یو اے ای کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک سفارتی چینل قائم ہوا۔

بلومبرگ سے گفتگو کرتے ہوئے یو اے ای کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اماراتی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنا، تنازعات کو محدود کرنا اور پائیدار امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ یو اے ای خطے کے عوام کو تنازع کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے امریکا سمیت مختلف فریقوں کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

Check Also

سلمان خان سے دوستی کا خمیازہ؟گرو رندھاوا کے جم پر فائرنگ، بشنوئی گینگ کی دھمکیاں

بھارتی گلوکار گرو رندھاوا ایک نئی پریشانی کا شکار ہوگئے، جب دہلی میں واقع ان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *