انسان کی خوراک اس کے مستقبل کی صحت، طویل عمری اور دائمی بیماریوں سے بچاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم، عمر کے مختلف حصوں میں انسانی جسم کی غذائی ضروریات تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور بڑھاپے میں مخصوص وٹامنز، معدنیات اور پروٹین کا حصول انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک نئی سائنسی تحقیق میں عمر رسیدہ افراد کی خوراک اور 100 سال کی عمر تک پہنچنے کے امکانات کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق بہت زیادہ گوشت کھانے کے بجائے متوازن اور مناسب مقدار میں حیوانی غذاؤں کو خوراک کا حصہ بنانے سے بعض بزرگ افراد کو بڑھتی عمر میں ضروری پروٹین اور دیگر غذائی اجزا حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ تحقیق چین میں کیے گئے ایک طویل مدتی مطالعے کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جس میں 80 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 5 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ تحقیق کا آغاز 1998 میں کیا گیا تھا جبکہ 2018 تک شرکا کی صحت اور خوراک سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے دیکھا کہ مختلف غذائی عادات رکھنے والے بزرگ افراد میں 100 سال کی عمر تک پہنچنے کا رجحان کس طرح مختلف تھا۔
نتائج میں سامنے آیا کہ مکمل طور پر گوشت سے پرہیز کرنے والے بعض افراد، خاص طور پر کم وزن رکھنے والے بزرگوں میں، 100 سال کی عمر تک پہنچنے کے امکانات گوشت کھانے والے افراد کے مقابلے میں کم تھے۔
تحقیق کی ایک اہم بات یہ تھی کہ گوشت نہ کھانے سے 100 سال کی عمر تک پہنچنے کے امکانات میں کمی بنیادی طور پر ان شرکا میں دیکھی گئی جو کم وزن تھے۔
اس کے برعکس صحت مند وزن رکھنے والے بزرگ افراد میں گوشت کھانے یا نہ کھانے کا یہ تعلق اتنا واضح نہیں تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمر، جسمانی وزن اور مجموعی غذائی حالت بھی نتائج پر اثر ڈال سکتی ہے۔
اس کے علاوہ جن افراد نے اگرچہ سرخ یا سفید گوشت نہیں کھایا لیکن انہوں نے اپنی خوراک میں مچھلی، انڈے اور ڈیری مصنوعات (دودھ، دہی وغیرہ) کا باقاعدہ استعمال رکھا، ان کے طویل عمری تک پہنچنے کے امکانات گوشت کھانے والوں کے برابر ہی تھے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جسم کو مطلوبہ پروٹین اور غذائی اجزا صرف گوشت سے ہی حاصل ہونا ضروری نہیں بلکہ دیگر غذائیں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
بڑھاپے میں پروٹین کی ضرورت کیوں بڑھ جاتی ہے؟
عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں کئی قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں۔ عضلات کا حجم کم ہونے لگتا ہے، ہڈیوں کی مضبوطی متاثر ہوسکتی ہے، بھوک کم ہوجاتی ہے اور جسم کی توانائی استعمال کرنے کی رفتار بھی پہلے کے مقابلے میں کم ہوسکتی ہے۔
ان تبدیلیوں کی وجہ سے بعض بزرگ افراد مناسب مقدار میں کھانا نہیں کھا پاتے، جس سے پروٹین، وٹامنز اور معدنیات کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مناسب پروٹین عضلات کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے اور بڑھاپے میں جسمانی کمزوری سے بچاؤ کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
گوشت، مچھلی، انڈے اور دودھ سمیت مختلف غذائیں پروٹین فراہم کرتی ہیں، جبکہ وٹامن بی 12 جیسے بعض غذائی اجزا بھی حیوانی غذاؤں سے آسانی سے حاصل ہوتے ہیں۔
ماہرین کی عمومی غذائی رہنمائی کے مطابق صحت مند عمر رسیدگی کے لیے صرف ایک غذائی چیز پر انحصار کرنے کے بجائے مجموعی طور پر متوازن غذا زیادہ اہم ہے۔
پھل اور سبزیاں فائبر، وٹامنز اور معدنیات فراہم کرتی ہیں، جبکہ دالیں، اناج، گری دار میوے، انڈے، مچھلی، دودھ اور مناسب مقدار میں گوشت پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزا فراہم کرسکتے ہیں۔
اسی طرح وٹامن ڈی، کیلشیم اور وٹامن بی 12 بھی بڑھتی عمر میں ہڈیوں اور جسمانی صحت کے لیے اہم ہیں۔ تاہم کسی بھی غذائی کمی کی صورت میں سپلیمنٹ لینے سے پہلے ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
محققین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ غذائی ضروریات بھی بدل جاتی ہیں، اس لیے بہت زیادہ پابندی والی غذا بعض بزرگ افراد کے لیے مناسب نہ ہو۔ ان کے مطابق متوازن خوراک میں جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں کی مناسب مقدار شامل کرنا بعض افراد کو ضروری پروٹین اور غذائی اجزا فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج خاص طور پر عمر رسیدہ اور کم وزن افراد میں غذائیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن گوشت کھانے اور 100 سال کی عمر تک پہنچنے کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت بھی موجود ہے۔
THE PUBLIC POST