آپ نے گھبرانا نہیں ہے، محسن نقوی کا خیبر پختونخوا اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

پشاور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا کے عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘آپ نے گھبرانا نہیں ہے مشکل وقت بھی آئے گا’ لیکن اس صوبے کو ‘انشا اللہ باقی صوبوں سے آگے لے جائیں گے’۔

وہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیے گئے اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے کے 12 حساس اضلاع میں سکیورٹی انتظامات اور فوج کی تعیناتی سے متعلق اقدامات پر غور کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کیں جن میں صوبے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کا قیام، سکیورٹی کے لحاظ سے حساس 12 اضلاع کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے الگ سیکریٹریٹ کا قیام، صوبے میں فوج کی تعیناتی، چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ پولیس افسران کا تبادلہ اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو عہدوں سے ہٹائے جانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آج پہلا دن ہے جب میں فخر سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں ایک پیج پر ہیں اور اب دہشت گردی کے خلاف جنگ مل کر لڑی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والے اہلکاروں کو صوبائی حکومت کی جانب سے وہ تعاون حاصل نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا۔ “سب سے زیادہ مشکل کام ان لوگوں کا تھا جو یہ جنگ لڑ رہے تھے۔ اور جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتے تھے تو یہاں پہ کوئی (شہدا کے) جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرتا تھا۔”

محسن نقوی نے صوبائی حکومت کے بارے میں مزید کہا کہ یہ دہشتگردی کے خلاف ہونے کا دعویٰ تو کرتی تھی لیکن عملی اقدام اٹھانے سے گریز کرتی تھی۔ ہم نے یہ ڈھائی سال میں دیکھا اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں درجنوں دفعہ ہم نے ان لوگوں سے درخواست کی پلیز آپ (دہشتگردی کے خلاف جنگ میں) ہمارے ساتھ آئیں۔”

ان کا ماننا تھا کہ صوبائی حکومت کی قیادت اور تعاون کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔

انہوں نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ “ایک بات ضرور نوٹ کریں کہ جب حکومت ان کا ساتھ دے گی، اور ان کی قیادت کرے گی تو یہی فورس اور یہی لوگ آپ کو رزلٹ دیں گے۔”

محسن نقوی نے شرکاء سے مزید کہا کہ نشیب و فراز آئیں گے اور ایک دن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی لیکن “آپ لوگوں نے گھبرانا نہیں ہے خاص طور پہ جو ایڈوائزرز ہیں اور باقی سارے لوگ ہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ مشکل سے مشکل وقت بھی آئے گا جس کا “ہم سب نے، آپ نے، گورنر صاحب نے، کور نے، پولیس نے، ایڈمنسٹریشن نے، فیڈرل گورنمنٹ نے، ہم نے مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔”

وزیر داخلہ نے کہا دہشتگردوں میں ‘کوئی اتنی سکت نہیں ہے’ اور ان کے خلاف جنگ میں جو صوبائی حکومت کی حمایت کی کمی تھی وہ ‘ہم پورا کرنے کی کوشش کریں گے’ اور ‘آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے’۔

انہوں نے تجویز دی کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے پہلے 5 اضلاع پر مشتمل منصوبے پر عمل کیا جائے، جس کے تحت 6 ماہ کے پہلے مرحلے میں پولیس اور باقی اداروں کی استعداد بڑھائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو تحفظ، سہولتیں اور جدید اسلحہ فراہم کیے بغیر اس سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے پولیس کی بہتری کے لیے گورنر اور کور کمانڈر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مجوزہ اقدامات پولیس کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے۔

وزیر داخلہ نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کی صورت حال پر خیبرپختونخوا کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عوام نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق یہ لوگ چاہتے تھے کہ سڑکیں بند ہوں اور پورے صوبے میں بدامنی پھیلے، لیکن صوبہ پُرامن رہا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کا پیغام واضح ہے کہ وہ دہشت گردی سے نجات اور امن چاہتے ہیں۔

‘سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا’
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں گے اور ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی کاموں سمیت کئی اہم معاملات ہیں، لیکن دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ سب سے پہلی ترجیح ہے۔ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سمیت متعلقہ اداروں کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔ ان کے بقول، ترقیاتی کاموں میں کمی کی جا سکتی ہے، لیکن سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حکومت کی ٹیم کو مختصر وقت میں اپنی کارکردگی ثابت کرنا ہوگی۔ اگر ریاست، وفاقی حکومت اور عوام نے اعتماد کیا ہے تو اس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے دن رات کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 13 سال میں ہونے والے کام کو 3 ماہ میں کرکے دکھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر غیر مؤثر اہلکاروں کو تبدیل بھی کیا جائے گا۔

گورنر نے کہا کہ حکومت کو نمائشی سرگرمیوں اور فوٹو سیشن کے بجائے ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن کے نتائج امن کی صورت میں نظر آئیں۔ انتظامیہ کو غیر ضروری معاملات میں الجھنے کے بجائے اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ دینی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور وزیرستان سمیت صوبے کے کئی علاقے برسوں سے دہشت گردی کا شکار ہیں، جہاں لوگ آزادانہ سفر اور معمول کی زندگی گزارنے سے محروم ہیں۔ حکومت کی کوشش ہونی چاہیے کہ ان علاقوں کے شہریوں کو بھی محفوظ ماحول اور وہ سہولتیں میسر ہوں جو ملک کے دوسرے حصوں میں لوگوں کو حاصل ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں پانی، سستی بجلی، تیل، گیس، معدنیات، تمباکو اور سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ یہ خطہ قدیم تہذیبوں کا بھی مرکز رہا ہے۔ تاہم امن کے بغیر ان وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانا، سرمایہ کاری لانا اور سیاحت کو فروغ دینا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ ماضی میں مختلف اداروں کے درمیان رابطوں اور ترجیحات میں جو خلا رہا، اسے اب ختم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، اپیکس کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے ہوں گے اور تمام ادارے قریبی رابطے اور مسلسل نگرانی کے ذریعے عملی نتائج حاصل کرنے پر توجہ دیں گے۔

ایپکس کمیٹی کیا ہوتی ہے اور اس کی کیا ذمہ داری ہے؟
صوبائی ایپکس کمیٹی ایک ایسا فورم ہے جو صوبائی سطح پر سکیورٹی کو مربوط کرنے اور دسمبر 2014 میں پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے بنایا گیا۔

وفاقی سطح پر بھی ایک مرکزی ایپکس کمیٹی ہے جس کی صدارت وزیراعظم کرتے ہیں۔

ایپکس کمیٹیاں کب بنیں؟
جنوری 2015 میں سول اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا، اور اسے پشاور سکول حملے کا ردعمل قرار دیا جاتا ہے۔

اسی پلان کے تحت صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹیاں بنائی گئیں۔ میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف نے جنوری میں پنجاب کے وزیراعلیٰ کے ساتھ لاہور اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے ساتھ پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کیے تھے۔

سال 2015 کے آغاز سے ہی یہ کمیٹیاں فعال رہی ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومتی رہنماؤں کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے دور حکومت میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے سے ہچکچاتے رہے۔

انہوں نے 15 اکتوبر 2025 کو وزارت اعلی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد صوبائی ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس 4 فروری 2026 کو طلب کیا تھا۔

حکومتی رہنماؤں کے مطابق سہیل آفریدی صوبے میں دہشتگردی کے خلاف ٹھوس اقدامات سے بھی گریز کرتے رہے اور اسی بنا پر پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ 2 اور 3 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات بھی ناکام ہوئے۔

اپیکس کمیٹی کا اجلاس آج بلانے کا فیصلہ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت سکیورٹی سے متعلق ایک اہم اجلاس ہوا تھا۔

اس اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست کا عزم خیبرپختونخوا میں امن قائم کرنا اور عوام کو دہشت گردی سے نجات دلانا ہے۔ ان کے مطابق غیر معمولی اقدامات کا مقصد قانون کی عمل داری یقینی بنانا اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے، تاہم ریاست کے تمام اقدامات آئین اور قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔

Check Also

مبینہ فراڈ کے بعد طالبہ کی خودکشی کیس میں ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے مبینہ فراڈ کے بعد انٹرنیشنل اسلامک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *