سعودی عرب کے شہر دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ پر حملوں میں 3 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے، حملوں میں اضافے کے بعد امریکا نے سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہلخانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں اپنے بعض سفارتی اہلکاروں کو واپس بلا لیا تھا۔ بعد ازاں حالیہ مہینوں میں کچھ اہلکاروں کو دوبارہ تعینات کیا گیا۔ اب سعودی عرب میں حملوں میں اضافے کے بعد سفارتی عملے اور ان کے اہلخانہ کی واپسی کا نیا حکم سامنے آیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے جبکہ شیبہ آئل فیلڈ میں سعودی آرامکو کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون کو سعودی فضائی دفاعی نظام کی جانب سے روکنے کے بعد پیش آنے والے واقعے میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات اور حملوں میں اضافے کے پیش نظر اپنے سفارتی مشنز سے غیر ہنگامی امور پر مامور سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، جبکہ خلیجی خطے کی دیگر ریاستوں میں قائم امریکی سفارتی مشنز سے بھی عملے کے اہلخانہ کو واپس بلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ سعودی عرب میں صرف غیر ہنگامی امور پر مامور امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلخانہ کو روانگی کا حکم دیا گیا ہے۔
ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں شہری اہداف اور اہم تنصیبات پر حملوں میں اضافے کے باعث یہ اقدام کیا گیا۔ حوثیوں کی کارروائیوں میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے علاوہ فضائی سفر میں بھی شدید خلل پڑ رہا ہے۔
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے چار امریکی حکام کے مطابق خلیجی خطے کے دیگر ممالک میں قائم امریکی سفارتی مشنز سے بھی اہلِ خانہ کو واپس جانے کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک میں سفارتی عملے کی واپسی سے متعلق کسی فیصلے کی تصدیق نہیں کی۔
ادھر ریاض میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے سعودی عرب پر حوثیوں کے مزید ممکنہ حملوں سے خبردار کیا ہے۔ یہ انتباہ حالیہ مہلک حملوں کے بعد جاری کیا گیا، جن میں ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا واقعہ بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال مارچ کے اوائل میں ریاض میں امریکی سفارتخانے اور وہاں قائم امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اسٹیشن کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔
خیال رہے یمن کی لڑائی میں حالیہ شدت کی وجہ سے خطے میں جاری تنازع میں ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں عالمی توانائی کی تجارت متاثر ہوئی ہے، جبکہ خلیجی ممالک کی معیشتوں کو بھی دباؤ کا سامنا ہے۔
THE PUBLIC POST