امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن نے مسلمانوں کو صرف ان کے مذہب کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنانے والوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے رویے سے تنگ آچکے ہیں۔ انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو جاننے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے پیدا کیا ہے۔
بل کلنٹن نے جنوبی فلوریڈا کے ایک گرجا گھر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی بیٹی کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ انہوں نے 15 برس کی عمر میں قرآن مجید شروع سے آخر تک پڑھا تھا۔
بل کلنٹن نے بتایا کہ قرآن کی یہ تعلیم انہوں نے اپنی بیٹی سے سنی تھی۔ ان کے مطابق بیٹی نے انہیں قرآن پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے پڑھیں۔
سابق امریکی صدر نے قرآن کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی نے انہیں بتایا تھا کہ قرآن مجید یہ سکھاتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں اس لیے نہیں بنایا کہ وہ ایک دوسرے سے نفرت کریں یا ایک دوسرے کو حقیر سمجھیں، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے کو جان سکیں اور باہمی تعاون سے ایک دوسرے سے سیکھ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر مذہب میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو غلط کام کرتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی انسان خامیوں سے پاک نہیں۔ تاہم، چند افراد کے اعمال کی بنیاد پر پورے مذہب کے ماننے والوں کو برا سمجھنا درست نہیں۔
بل کلنٹن نے مذہب اور ثقافت کی بنیاد پر ہونے والی لڑائیوں پر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذہبی جنگوں اور ثقافتی تنازعات سے تھک چکے ہیں۔
ان کے بیان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نفرت یا تضحیک کا نشانہ بنانے کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کلنٹن نے یہ باتیں ڈیموکریٹک پارٹی کے گورنر کے امیدوار ڈیوڈ جولی کی انتخابی مہم سے متعلق ایک اجتماع کے دوران کہیں۔ امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مختلف اہم معاملات پر بیانات بھی سامنے آرہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فرانس میں بدامنی سے متعلق تبصروں پر بھی بحث جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ پیرس مستقبل میں ایک مسلم شہر بن جائے گا۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اس بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول اور احمقانہ قرار دیا تھا۔
THE PUBLIC POST