کراچی (رپورٹ، وسیم خان) کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیرِ اہتمام آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ کے اعزاز میں تقریب ’’جو ہم پہ گزری: محمد احمد شاہ کی کہانی، خود ان کی زبانی‘‘ منعقد ہوئی۔ تقریب میں صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی، سیکرٹری محمد اسلم خان، سیکریٹری ادبی کمیٹی جاوید صبا اور محمد احمد شاہ کے رفقا کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر احمد شاہ کی ادبی و ثقافتی خدمات پر مبنی شو ریل بھی پیش کی گئی۔
صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے فاضل جمیلی، محمد اسلم خان اور جاوید صبا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی زندگی کے مختلف واقعات بیان کیے۔ انہوں نے اپنے بچپن، خاندانی پس منظر، تعلیم، ادب سے وابستگی، کراچی پریس کلب، تھیٹر اور آرٹس کونسل تک کے سفر پر روشنی ڈالی۔ احمد شاہ نے بتایا کہ بچپن میں ان کے گھر ناظم آباد نمبر چار میں ایک دوسرے کے سامنے تھے۔ چھ برس کی عمر میں وہ دوستوں کے ساتھ پہلی بار بستہ اٹھا کر پیدل اسکول گئے۔
اس اسکول سے ان کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں، مگر اب وہاں شادی ہال قائم ہے۔ 1965ء کی جنگ کے دوران وہ اپنے خاندان کے ساتھ مورچوں میں لیٹا کرتے اور صبح طیارہ شکن توپوں کے ٹکڑے جمع کرتے تھے۔ بچپن میں انہوں نے بلوچ دوستوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنا شروع کیا اور لسبیلہ الیون کے نام سے اپنی ٹیم بھی بنائی۔ ان کے مطابق ماضی کی یادیں، پہلا استاد اور اسکول کا پہلا دن ہمیشہ اہم رہتے ہیں۔
انہوں نے اپنے خاندان کی ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بزرگ ایران سے ہجرت کرکے آئے اور مختلف علاقوں میں آباد ہوئے۔ ان کے والد دین اور قرآن سے گہرا تعلق رکھتے تھے، لوگوں کی مدد کرتے اور کسی سے معاوضہ طلب نہیں کرتے تھے۔ مذہبی وابستگی کے ساتھ ان کی طبیعت میں کشادگی بھی تھی۔ وہ سیف الملوک پڑھتے اور اشعار سناتے تھے، جس سے احمد شاہ کو شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ احمد شاہ نے کہا کہ ان کے والد کی تربیت نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔
ان کے نزدیک کسی شخص کی اصل قدر اس کے عہدے، گریڈ یا دولت سے نہیں بلکہ کردار اور علم سے طے ہونی چاہیے معاشرے میں طبقاتی فرق اور مادہ پرستی بڑھ گئی ہے، حالانکہ علم ہی فضیلت کی اصل علامت ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد ایک واقعے کے بعد آبائی علاقے سے لاہور پہنچے، جہاں ایک خاتون نے انہیں رہنے کی جگہ دی۔ کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد وہ بمبئی گئے اور وہاں سینما کے قریب روزمرہ استعمال کی اشیا فروخت کرنے لگے ان کا سامان جلد فروخت ہونے لگا اور اسی طرح ان کی کاروباری صلاحیت اور خود اعتمادی کا سفر شروع ہوا احمد شاہ نے کراچی یونیورسٹی میں اپنے زمانۂ تعلیم کو زندگی کا اہم مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں انہیں مختلف اساتذہ اور لوگوں سے ملنے اور علمی دنیا کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا فہیم زمان خان، شکیل اظہر جعفری، حیدر نقوی اور نصرت منگی سمیت کئی افراد ان کے دوستوں میں شامل تھے۔
دوستوں کے ساتھ محفلیں، ہنسی مذاق اور ادبی گفتگو ان کی جوانی کا حصہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب سے ان کا تعلق تقریباً 46 برس پرانا ہے اور ان کی تربیت میں یونیورسٹی اور پریس کلب کے ماحول کا اہم کردار رہا۔ وہاں غوث بخش بزنجو، خان عبدالولی خان، عطاء اللہ مینگل اور بے نظیر بھٹو جیسی سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے آٹھویں جماعت سے ہی اردو ادب کا مطالعہ شروع کردیا تھا اور نویں جماعت میں صابر ظفر سے ملاقات کے بعد ادیبوں اور شاعروں کی محفلوں میں آنا جانا بڑھا۔
سرجمال احسانی، سلیم ہاشمی، جاوید صبا اور دیگر اہلِ قلم سے تعلق نے ان کے ادبی ذوق کو وسعت دی۔ احمد شاہ نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں علم و ادب کے فروغ کے لیے مضبوط ادارے کی ضرورت تھی۔ وہ دوستوں کے ساتھ ادبی نشستیں منعقد کرتے اور شوکت صدیقی اور اجمل سلطانپوری جیسی شخصیات کے پروگراموں میں شریک ہوتے۔ کراچی پریس کلب کی چھت کی تعمیر کے معاملے میں بھی انہوں نے دوستوں کے ساتھ مل کر کام کیا، حالانکہ ادارے کے پاس وسائل محدود تھے۔ سلیم ہاشمی سے ادب، موسیقی اور کلاسیکی فنون کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے عزیز حامد مدنی جیسے شاعر کو ادبی محفلوں میں متعارف کرانے کی کوشش بھی کی۔ ضیاء الحق کے دور کا ذکر کرتے ہوئے احمد شاہ نے کہا کہ اس زمانے میں ذرائع ابلاغ پر اظہار کی آزادی محدود تھی۔ وہ ایسے ماحول کے خلاف تھے جو ادب اور تخلیقی اظہار کو محدود کرتا ہے۔ ان کے نزدیک روشن خیالی کا مطلب کھلے ذہن سے نئے خیالات کو سمجھنا اور تنقیدی انداز میں سوچنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے والد چاہتے تھے کہ بچوں کو تعلیم کے بہتر مواقع ملیں، اسی لیے انہوں نے ان کی تعلیم کے لیے بھرپور کوشش کی اور یونیورسٹی میں داخلے کے وقت گاڑی بھی فراہم کی۔ احمد شاہ کے مطابق انہوں نے زندگی میں بہت سے لوگوں سے سیکھا اور ہمیشہ علم، ادب اور تخلیقی صلاحیتوں سے وابستہ افراد کی قدر کرنے کی کوشش کی۔ وہ پہلے زیادہ باغی تھے، لیکن وقت کے ساتھ بہت سے معاملات میں سمجھوتے کیے، تاہم اخلاقیات اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 1981ء سے پریس کلب آ رہے ہیں۔
اس زمانے میں مظہر عباس اور وسعت اللہ خان بھی ان کے ساتھ گاڑی میں سفر کرتے تھے۔ وہ صحافت سے وابستہ ہونا چاہتے تھے، لیکن اس دور میں صحافیوں کی تنخواہیں بہت کم تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے ایمانی پر مجبور ہونے کے بجائے دوسرے شعبوں میں کام کرنے لگے، اگرچہ صحافت سے ان کی دلچسپی برقرار رہی۔ تھیٹر سے وابستگی کے بارے میں احمد شاہ نے بتایا کہ وہ ایک تھیٹر گروپ کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ حسین، راحت، یاسمین اسماعیل اور ساجد حسن سمیت کئی فنکار اس گروپ سے وابستہ رہے۔
ریجنٹ پلازہ میں کم فیس کے عوض چار ڈرامے دکھانے کا سلسلہ شروع کیا گیا، جس سے لوگوں کو نسبتاً کم قیمت پر تھیٹر دیکھنے کا موقع ملا۔ تھیٹر نے انہیں مطالعے کی طرف بھی راغب کیا۔ انہوں نے اپنے کام کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے انگریزی زبان و ادب، فلسفے اور فرانسیسی تھیٹر کا مطالعہ کیا۔ احمد شاہ نے کہا کہ ان کے لیے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہمیشہ اہم رہا ہے۔ آرٹس کونسل میں ایک نوجوان کی گائیکی سن کر انہیں احساس ہوا کہ باصلاحیت بچوں کو صرف مناسب رہنمائی اور موقع درکار ہے۔
لیاری، گڈاپ اور اورنگی ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں کے بچوں میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔ انہوں نے مذہب یا برادری سے قطع نظر نوجوانوں کو آگے لانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق آرٹس کونسل کے آرٹ اسکول کے طلبہ اس جدوجہد کی کامیابی ہیں۔ لیاری، لالو کھیت اور اورنگی ٹاؤن کے بچوں کی پینٹنگز آئرلینڈ اور کینیڈا میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس سے بچوں کو شناخت ملی، اعتماد بڑھا اور ان کی زندگیوں میں تبدیلی آئی۔
انہوں نے کہا کہ خود طبقاتی فرق اور وسائل کی کمی کے مسائل سے گزرنے کے باعث وہ جانتے ہیں کہ ایسے حالات میں نوجوانوں کو کن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے احمد شاہ نے بتایا کہ آرٹس کونسل میں تبدیلی لانے کے لیے انہوں نے ساتھیوں کے ساتھ جدوجہد کی۔ ابتدا میں سالانہ گرانٹ صرف دس لاکھ روپے تھی۔ ادارے کے آئین میں تبدیلی، انتخابات اور مختلف افراد کو نمائندگی دینے کے لیے کوششیں کی گئیں انہوں نے کہا کہ مقصد کسی عہدے کا حصول نہیں بلکہ لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع دینا اور ادارے کو بہتر بنانا تھا عالمی اردو کانفرنس کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کا آغاز 2008ء میں ہوا۔
اس وقت وسائل نہ ہونے کے برابر تھے، اس لیے بیرونِ شہر سے آنے والے مہمانوں کو مختلف گیسٹ ہاؤسز اور دوستوں کے گھروں میں ٹھہرایا گیا۔ ایک پرانی ویگن کے ذریعے مہمانوں کو لانے لے جانے کا انتظام کیا جاتا تھا۔ کانفرنس کے انعقاد کے بعد اسے میڈیا میں نمایاں جگہ ملی اور پوچھ گچھ بھی ہوئی تاہم میزبانوں نے مہمانوں کو عزت و احترام کے ساتھ ٹھہرایا احمد شاہ کے مطابق اسی کانفرنس سے ان کی پہچان میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہدف حاصل کرنے کے بعد وہ اگلے کام کی طرف بڑھ جاتے ہیں عالمی اردو کانفرنس کے بعد یوتھ فیسٹیول، ادبی میلوں اور دیگر سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا۔ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے ذریعے مختلف شہروں میں ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کیے گئے۔
ان کے مطابق ورلڈ کلچر فیسٹیول بھی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے اور اسے شہر کے نوجوان چلاتے ہیں، جن میں مختلف زبانوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ احمد شاہ نے کہا کہ ایک وقت میں انہیں قتل کی دھمکیاں بھی ملیں، لیکن انہوں نے ادارے کو بچانے اور اس کی سمت تبدیل کرنے کی جدوجہد جاری رکھی۔ ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے بھی تہذیبی و علمی روایت کے تحفظ کے لیے ان کا ساتھ دیا۔ ان کا خواب ہے کہ فن اور ثقافت ملک کے ہر حصے تک پہنچے۔ اسی مقصد کے تحت سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور خیرپور میں آرٹس کونسلیں قائم ہوئیں، جہاں بچوں کو فنونِ لطیفہ اور موسیقی کی تعلیم دی جا رہی ہے۔
وہ پاکستان کی تمام زبانوں، علاقوں اور ثقافتوں کو یکساں نمائندگی دینے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اصل کمائی دولت یا گاڑیاں نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو ان کے کام کی قدر کرتے ہیں انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ آرٹس کونسل اور ثقافت کے فروغ کے لیے وقف کیا، جس کے باعث گھر اور بچوں کو مناسب وقت نہ دے سکے۔ ان کی اہلیہ نے بچوں کی پرورش میں زیادہ ذمہ داری نبھائی مسلسل دباؤ کے باعث صحت کے مسائل بھی پیدا ہوئے، لیکن وہ اسے اپنی جدوجہد کی قیمت سمجھتے ہیں احمد شاہ نے کہا کہ ثقافت اور شناخت کا تحفظ سرحدوں کی حفاظت جتنا اہم ہے۔ اگر کوئی معاشرہ اپنی ثقافت کھو دے تو اس کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ آرٹس کونسل کی عمارت اور سرگرمیوں میں آنے والی تبدیلی اجتماعی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کراچی پریس کلب کو اختلافِ رائے اور مکالمے کا اہم فورم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کی مضبوطی کے لیے اتحاد ضروری ہے اور اختلافات بات چیت سے حل کرنے چاہییں۔
انہوں نے کراچی پریس کلب کے عہدیداروں اور دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نفرتیں مسائل کا حل نہیں، مکالمہ ہی اختلافات دور کرنے کا راستہ ہے۔ صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی نے کہا کہ محمد احمد شاہ کا کام اور مقام کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایک وقت تھا جب آرٹس کونسل کی سرگرمیاں محدود تھیں اور شام کو تالے لگ جاتے تھے، لیکن احمد شاہ نے ادارے کو پاکستان کے بڑے ثقافتی مراکز میں شامل کیا اور دنیا بھر میں اس کی شناخت بنائی کراچی پریس کلب ہمیشہ احمد شاہ کا گھر رہا ہے اور ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں کلب نے انہیں لائف ممبرشپ دی۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو ہم پہ گزری‘‘ کا مقصد کسی شخصیت کی زندگی کا سفر بچپن سے موجودہ مقام تک جاننا ہے، جس میں مشکلات، محرومیاں اور مایوسیوں کے ادوار بھی شامل ہوتے ہیں۔
سیکریٹری کراچی پریس کلب محمد اسلم خان نے کہا کہ محمد احمد شاہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ کراچی میں مشکل حالات کے باوجود انہوں نے تھیٹر اور ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور شہر کی ثقافتی شناخت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ورلڈ کلچر فیسٹیول کے ذریعے کراچی اور پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن ہوا، جبکہ عالمی اردو کانفرنس سمیت ان کی ادبی و ثقافتی خدمات بھی نمایاں ہیں
THE PUBLIC POST