کے الیکٹرک کیس میں نیپرا کا سخت مؤقف،پاور ڈویژن مؤثر دلائل دینے میں ناکام

کے الیکٹرک کیس میں نیپرا کا سخت مؤقف، پاور ڈویژن مؤثر دلائل دینے میں ناکام،

50 ارب رائٹ آف پر وزارت متبادل حل نہ دے سکی،

سماعت میں بل ریکوری، رائٹ آف اسکیموں اور سیلز ٹیکس ذمہ داری پر بحث ہوئی۔

نیپرا نے بدھ کے روز کے الیکٹرک سے متعلق اپنے اہم فیصلوں پر پاور ڈویژن کی نظرثانی درخواستوں کی بند کمرہ سماعت دوسرے دن بھی جاری رکھی، تاہم سماعت میں اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ ریگولیٹر اپنے پہلے مؤقف سے پیچھے ہٹے گا۔

سماعت میں شریک ایک سینئر سرکاری اہلکار اور صنعتی ذرائع کے مطابق اتھارٹی نے ابتدا میں ہی سوال اٹھایا کہ آیا پاور ڈویژن کو وفاقی حکومت کی جانب سے یہ درخواستیں دائر کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے بھی یا نہیں۔

سرکاری افسران نے اعتراف کیا کہ نیپرا کے قواعد کے مطابق لازمی فیس جمع نہیں کرائی گئی، صرف یہ کہا گیا کہ معاملہ “انتظامی طور پر نمٹایا جائے گا۔

” نیپرا کے چیئرمین نے پاور ڈویژن سے کے الیکٹرک کو دیے گئے 50 ارب روپے کے رائٹ آف کے معاملے پر وضاحت مانگی کہ وزارت کے پاس اس کے متبادل کیا حل ہے۔

Check Also

کراچی: سب انسپکٹر کے قتل، رینجرز پر فائرنگ میں ملوث ملزم پولیس مقابلے میں گرفتار

کراچی کے علاقے گلشنِ حدید میں پولیس نے مقابلے کے بعد 100 سے زائد وارداتوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *