گل پلازہ آتشزدگی؛ جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی،73 افراد تاحال لاپتا

کراچی:ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر 36 گھنٹے گزرنے کے بعد قابو پا لیا گیا ہے،آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے۔

فائر فائٹرز کو متاثرہ عمارت سے گزشتہ رات سے اب تک مزید ایک بچے سمیت 5 افراد کے اعضاء ملے ہیں، جس کے بعد ایک فائر فائٹر سمیت ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 15 ہوگئی ہے جبکہ 54 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے۔

اس سے قبل آج صبح بروز پیر کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی اگ پر 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا، عقبی حصے کی طرف سیکنڈ فلور اور گراؤنڈ فلور میں اب بھی آگ لگی ہوئی ہے۔

گل پلازہ کی عقبی سائیڈ پر فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیوں نے کام بند کر دیا، کیونکہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران عمارت سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔

فائر بریگیڈ کے مطابق عمارت مکمل طور پر خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کے گرنے کا خدشہ ہے اسی لیے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے، صرف ملبے کو ہٹایا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کے قریب عمارت میں آتشزدگی کے باعث ملبے تلے سے رات گئے ایک شخص کی لاش کو چھیپا حکام نے نکال لیا ہے جس کی شناخت تاحال نہ ہو سکی ہے، جبکہ دوسری لاش ٹکڑوں کی صورت میں برآمد ہوئی جسے ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی جو بڑھتی ہی چلی گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پہنچیں مگر آگ بڑھتی ہی رہی، آتشزدگی سے عمارت کے دو حصے گر گئے۔

چیف فائر افسر ہمایوں نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 80 فیصد قابو پا لیا گیا ہے اور کئی مقامات پر اگ کے شعلے تھم گئے، فائر اینڈ ریسکیو رضاکاروں کو اندر بھیجنا شروع کر دیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے 59 افراد کی مسنگ پر مختلف لوگوں سے رابطہ کیا اور تمام افراد کے ان کی فیملیز سے موبائل نمبر حاصل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے پاس ملی، مزید افراد کی لوکیشن کی اسکرونٹی کررہے ہیں اور پولیس موبائل نمبرز پر مزید کام کر رہی ہے۔

اسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں، مجوعی طور پر تیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سیںٹر، پندرہ اس کے ٹراما سینٹر میں اور دو جناح اسپتال لائے گئے۔

ریسکیو حکام کی جانب سے جاں بحق اور زخمی افراد کی فہرست جاری

ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر ولد نامعلوم (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) سمیت 5 دیگر افراد شامل ہیں جن کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔

زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم (25 سال)، وسیم ولد سلیم (20 سال)، دانیال ولد سراج (20 سال)، صادق ولد نامعلوم (35 سال)، حمزہ ولد محمد علی (22 سال)، رحیم ولد گل محمد (25 سال)، فہد ولد محمد ایوب (20 سال)، جواد ولد جاوید (18 سال)، ایان ولد نامعلوم (25 سال)، عبداللہ ولد ظہیر (20 سال)، عثمان ولد اصغر علی (20 سال)، فہد ولد حنیف (47 سال)، زین ولد عبداللہ (23 سال)، نادر ولد نامعلوم (50 سال) اور دیگر شامل ہیں۔

تاحال 59 افراد لاپتا، ناموں کی فہرست سامنے آگئی

قبل ازیں ڈپٹی کمشنر کو لوگوں نے شکایات درج کرائی تھیں کہ 56 افراد لاپتا ہیں جبکہ صدر گل پلازا تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں تاہم ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ 59 افراد لاپتا ہیں جن کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔

55 سے زائد افراد کیلئے لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فیصل ایدھی

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ عمارت میں 55 سے زائد افراد لاپتا ہیں جن کے ورثاء نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فائرفائٹر اپنی جانوں کی قربانی دیکر آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی کوشیش کررہے ہیں، عوام سے گزارش ہے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں عمارت سے دور ہیں۔

تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا دورہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں، آج کل شادیوں کا سیزن ہے، کل رات 10بجے کے بعد یہاں آگی لگنے کی اطلاع ملی، ہماری میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس کیا اور مجھے اطلاع دی، 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا، آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوئی، تقریباً 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور 10 باؤزر نے حصہ لیا، کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک اسنارکل دیا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی 3 آگ بجھانے کی مشینیں آئیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق 6 لوگوں کی جانیں گئی ہیں جس میں ایک کے ایم سی کا فائرفائٹر بھی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 22 لوگ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتا ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کو زندگی دے، یہ بیسمنٹ گراؤنڈ اور تین منزلہ عمارت تھی، یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں، جس طریقے سے آگ لگی ہے ابھی حتمی طورپر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کچھ کہتے ہیں کہ کسی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے بعد یہ آگ لگی اور وہاں ایسا میٹریل موجود تھا کہ جس کی وجہ سے آگ فوری پھیل گئی، فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔

ایک سوال پر انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم صاحب نے مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ نہیں کیا، ہوسکتا ہے حکومت سے کیا ہو، مجھے جلدی آنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ میں یہاں موجود نہیں تھا، میں تقریباً 5 بجے کے قریب شہر آیا ہوں، میں تمام تر حالات کا جائزہ لے کر یہاں آیا ہوں، جو لوگ انتشار پھیلاتے ہیں میں اُن پر دھیان نہیں دیتا۔

ان کا کہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، تاجروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے، ہمارے کے ایم سی اور 1122 کے فائر فائٹرز والوں کے پاس مہارت موجود ہے، اگر کسی اور کی ضرورت پڑی تو ضرور اپروچ کریں گے، کسی سے مدد طلب کرنا کوئی مضحکہ عمل نہیں ہوگا، یہ بلڈنگ بھی 80 کی دہائی میں تعمیر ہوئی ہے، اُس وقت یا اُس سے پہلے ایسا نظام لایا گیا جس کو ہم بھی نہ سنبھال سکے۔

گل پلازا میں 1200 دکانیں موجود تھیں، ڈی آئی جی ساؤتھ

ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا ہے کہ گل پلازا میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کا واقعہ ہوا، پولیس، سیکیورٹی ادارے اور ریسکیو ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں، آگ پر کافی حد تک قابو پالیا ہے، سندھ حکومت کی ہدایت پر ساؤتھ زون پولیس نے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔

انہوں ںے بتایا کہ لاپتا افراد سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں، حادثے میں رات سے اب تک 6 لاشیں نکال لی گئی ہیں جو کہ شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کردی ہیں،ریسکیو اہلکار فرقان بھی شہدا میں شامل ہے، 22 زخمی سول اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، گل پلازا میں 1200 دکانیں موجود تھیں۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گل پلازا کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، ریسکیو ٹیموں کے لیے راستے کلیئر رکھے جا رہے ہیں، آگ لگنے کی اصل وجہ کولنگ کے بعد تحقیقات میں سامنے آئے گی۔

فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے آپریشن میں حصہ لیا

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق عمارت میں آگ رات گئے لگی، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا گیا، گل پلازا کے قریب عقبی حصہ گرنے سے ایک فائر فائٹر دب کر جاں بحق ہوا، شہر بھر سے 20 سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آپریشن میں مصروف ہیں، عمارت کے باہر دو اسنارکل بھی آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔

فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ عمارت کی صورتحال مخدوش ہے اس لیے عمارت کے اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا، عمارت سے ملبہ ہٹانے کے بعد صورتحال واضح ہوسکے گی۔

چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دے کر شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے ہیں، پھنسے ہوئے افراد کو اسنارکل کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق شاپنگ پلازا پر لگی آگ تیسری منزل تک پہنچ گئی جبکہ گل پلازا میں بیسمنٹ مارکیٹ بھی موجود ہے۔ آگ کے باعث عمارت خستہ حال ہو چکی اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔

Check Also

ہرجانہ کیس: سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کوعمران خان کے خلاف کارروائی سے روک دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *