خیبر پختونخوا میں رمضان المبارک کے موقع پر مستحقین کے لیے اعلان کردہ ریلیف پیکج سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رمضان پیکج کے نام پر مختص کیے گئے تیرہ ارب روپے پی ٹی آئی کارکنان میں بانٹنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے منتخب ارکان اسمبلی کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ امداد کے حقدار افراد کی فہرستیں جمع کرائیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ہر صوبائی رکن اسمبلی کو پانچ ہزار افراد کے نام دینے کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی کے ارکان دو دو ہزار افراد کے نام تجویز کریں گے۔ اس کے علاوہ ہر تحصیل چیئرمین کو بھی دو دو سو افراد کی فہرستیں دینے کا کہا گیا ہے۔
اس پیکج کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف منتخب نمائندے ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے ہارے ہوئے امیدواروں کو بھی وہی کوٹہ دیا گیا ہے جو جیتنے والوں کے پاس ہے۔
تحریک انصاف کے عہدیداروں سمیت وکیلوں کی تنظیم انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف)، طلبہ ونگ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (آئی ایس ایف) اور یوتھ ونگ کے عہدیداروں کو بھی یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ اپنے تجویز کردہ ناموں پر امداد دلوا سکیں۔
دوسری جانب صوبائی اسمبلی میں موجود اپوزیشن اراکین کو اس رمضان پیکج سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ سرکاری خزانے سے دی جانے والی یہ امداد صرف مخصوص سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد تک ہی پہنچ سکے گی۔
THE PUBLIC POST