واشنگٹن: خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران کے دو اہم عہدیداروں کو ٹارگٹ لسٹ سے نکال دیا گیا ہے، جسے ممکنہ مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو پاکستان کی درخواست پر اس فہرست سے ہٹایا گیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکا سے مؤقف اختیار کیا کہ اگر یہ اہم شخصیات بھی نشانہ بن گئیں تو مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن پر زور دیا کہ سفارتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے ان شخصیات کا محفوظ رہنا ضروری ہے تاکہ کسی ممکنہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو بھی پیچھے ہٹنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور بات چیت کے امکانات کو برقرار رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک اہم سفارتی کوشش ہے، جس کا مقصد جنگ بندی اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا ہے۔
THE PUBLIC POST