پاکستانی آلو کے کنٹینرز چین میں پھنس گئے،معاملہ قائمہ کمیٹی میں زیرِ بحث

اسلام آباد:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کا اجلاس چیئرمین حسین طارق کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے اہم معاملات پر غور کیا گیا۔

وزارت غذائی تحفظ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان سے آلو کے 21 سیل بند کنٹینرز عید سے قبل خنجراب کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمد کرنے کے لیے بھجوائے گئے تھے۔

چینی حکام نے ان سیل بند کنٹینرز کو تاحال روک رکھا ہے کیونکہ چین اپنے ملک سے آلو کی برآمد کی اجازت نہیں دیتا۔ پاکستانی سفیر نے چینی حکام کو واضح کیا ہے کہ کنٹینرز مکمل سیل بند ہیں۔

حکام نے یقین دہانی کرائی کہ ان سیل بند کنٹینرز سے چین میں کسی قسم کی بیماری پھیلنے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ اس حساس معاملے پر وزارتِ خارجہ کے ذریعے بھی چینی حکام سے مسلسل بات چیت جاری ہے۔

اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف نے بھی چینی حکومت سے یہ تجارتی معاملہ حل کرنے کا کہا ہے۔ اگر یہ کنٹینرز وسطی ایشیائی ریاستوں کو چلے گئے تو پاکستان کے لیے ایک نئی تجارتی راہداری کھل جائے گی۔

وزارتِ غذائی تحفظ کے حکام نے مزید بتایا کہ آلو کی برآمد کے لیے اس وقت دنیا کے 10 ممالک سے بات چیت ہو رہی ہے تاکہ ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مارچ سے اب تک 45 ہزار میٹرک ٹن آلو برآمد کیا گیا۔ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ایک لاکھ میٹرک ٹن آلو بیرونِ ملک برآمد کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق گزشتہ 2 ماہ میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 15 ہزار میٹرک ٹن آلو برآمد کیا گیا۔ یہ برآمدات بحرین، قازقستان، ملائشیا اور تافتان بارڈر کے ذریعے ایران کو کی جا رہی ہیں۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی رانا اسحاق نے سرکاری اعداد و شمار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے لیے عملی طور پر کچھ نہیں کیا جا رہا۔

رانا اسحاق کا کہنا تھا کہ زمیندار سے آلو کوئی خرید نہیں رہا، منڈیوں میں آلو بک نہیں رہا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب جانور بھی آلو نہیں کھا رہے۔

Check Also

کراچی؛ عید کے روز سی ویو سے اغواء ہونے والی3سالہ بچی کا تاحال سراغ نہ مل سکا

کراچی:سی ویو سے تین سالہ بچی کو مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا جس کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *