اسلام آباد:نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے باضابطہ اعلان کے باوجود اولڈ ایئرپورٹ روڈ کی گلیاں بدستور بند ہیں۔
ایران اور امریکی وفد کی اسلام آباد آمد کے موقع پر گزشتہ 8 روز سے گلیاں بند تھیں جس کے سبب اسکولز دفاتر جانے والوں کو شدید تکلیف کا سامنا رہا۔
ناکے پر موجود پولیس اہلکاروں کا موقف ہے کہ کچھ موومنٹ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے گلیاں بدستور بند رکھی ہیں، ہمیں کوئی احکامات نہیں ملے نہ ہم ایسے ایئرپورٹ روڈ پر انٹری دے سکتے ہیں۔
گلزار قائد، ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی، شاہ خالد کالونی اور فیصل کالونی سمیت متعدد آبادیوں کو مسلسل پریشانی کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ریڈ زون کی بندش کے باعث بند اسلام آباد ہائیکورٹ آج 12 روز بعد کھل گئی، 16 اپریل کو آخری بار کیسز کی سماعت ہوئی تھی۔
کفایت شعاری مہم کے تحت جمعے کو جوڈیشل ورک نہیں ہوتا جبکہ 12 روز میں سیکڑوں کیسز التواء کا شکار ہوگئے۔
ریڈ زون کی مسلسل بندش کے باعث ہائیکورٹ میں گزشتہ ہفتے ایک بھی سماعت نہ ہو سکی، سیکڑوں کیسز التوا کا شکار ہونے سے کیسز کا پینڈنسی لوڈ مزید بڑھ گیا۔
گزشتہ ہفتے ریڈ زون کی بندش کے باعث ہائیکورٹ میں اہم کیسز کی سماعت نہ ہو سکی جس میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی درخواستیں شامل تھیں، 190 ملین پاؤنڈ کیس 22 اپریل سماعت کے لیے مقرر تھا تاہم کاز لسٹ منسوخ ہوگئی۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی روکنے سے متعلق کیس کی سماعت بھی نہ ہو سکی، ہائیکورٹ کی بندش اور جوڈیشل ورک نہ ہونے سے درختوں کی کٹائی روکنے کا کیس بھی نہ ہو سکا۔
THE PUBLIC POST