واشنگٹن:امریکی انٹیلی جنس ادارے اس بات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری دو ماہ پرانی جنگ میں یکطرفہ فتح کا اعلان کرتے ہیں تو تہران کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟ اس معاملے سے باخبر ذرائع کے مطابق یہ تجزیہ اعلیٰ حکام کی ہدایت پر کیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس امکان پر بھی غور کر رہی ہے کہ اگر جنگ میں اچانک کمی لائی گئی تو اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ تنازع وائٹ ہاؤس کے لیے اندرونی دباؤ کا باعث بنتا جا رہا ہے اور آئندہ وسط مدتی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
انٹیلی جنس تجزیوں کے مطابق اگر امریکا اچانک فتح کا اعلان کر کے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کم کر دیتا ہے تو ایران اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
تاہم اگر اعلان فتح کے باوجود امریکی افواج بدستور تعینات رہیں تو تہران اسے ممکنہ مذاکراتی حربہ سمجھ سکتا ہے لیکن اس سے فوری طور پر جنگ کے خاتمے کی توقع کم ہوگی۔
THE PUBLIC POST