ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی جانب سے وفاقی بجٹ کا خیر مقدم

رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے فنانس بل 2026-27 میں حکومت کی جانب سے جائیداد سے متعلق معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے متعارف کردہ پراپرٹی لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، وزیرِ اعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے خطیر فنڈز کی فراہمی اور پائیدار شہری ترقی کے پروگرام کے آغاز جیسے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین حسن بخشی نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ ناکافی ہیں، مگر ٹیکس میں ریلیف اور ہاؤسنگ سبسڈیز تعمیراتی شعبے میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کریں گی اور مجموعی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ تعمیراتی صنعت روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور سیمنٹ، اسٹیل، پینٹ، ٹائلز، ہارڈویئر، لکڑی اور ٹرانسپورٹ سمیت متعدد متعلقہ شعبوں کی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔

حسن بخشی نے وزیرِ اعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے 71 ارب روپے مختص کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ملک میں رہائشی ضروریات پوری کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ہاؤسنگ اور تعمیراتی شعبے کے لیے ایک جامع 10 سالہ روڈ میپ تیار کرے تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور ملک میں رہائشی یونٹس کی کمی کو بتدریج کم کیا جا سکے۔

چیئرمین ٹرائی اسٹار انٹرنیشنل کنسلٹنٹس ابراہیم امین نے پائیدار شہری ترقی پروگرام کے تحت ایک لاکھ 50 ہزار کم لاگت گھروں کی تعمیر کے لیے 54 ارب روپے مختص کرنے کے حکومتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ 10 شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلانز تیار کرنے کی تجویز ایک دور اندیش اقدام ہے، جو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی غیر منصوبہ بند توسیع کی حوصلہ شکنی کرے گی اور جدید انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات سے مزین پائیدار شہری ترقی کو فروغ دے گی۔

ابراہیم امین نے نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور فوجی تنازعات نے مقامی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اپنی بچت پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے کا موقع پیدا کیا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بڑے شہروں میں لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ جائیداد کے لین دین کے شفاف اور کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کرائے جا سکیں اور زمینوں پر ناجائز قبضوں اور فراڈ سے تحفظ کے لیے مؤثر ریگولیٹری و نگرانی کا نظام قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے تجویز دی کہ حکومت ون ونڈو ڈیجیٹل پراپرٹی ٹیکس سسٹم متعارف کرائے، جس کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ترقیاتی اداروں اور بلدیاتی اداروں کی جانب سے عائد تمام پراپرٹی ٹیکسز کو ایک واحد آن لائن پلیٹ فارم پر یکجا کیا جائے۔ اس نظام سے پیچیدگی میں کمی آئے گی، ٹیکس قوانین پر عملدرآمد بہتر ہوگا، شفافیت میں اضافہ ہوگا اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی دستاویزی معیشت کو فروغ ملے گا۔

Check Also

کراچی میں پیر تک تیز ہوائیں چلیں گی،کیا بارش کا امکان ہے؟

کراچی:کراچی میں پیر تک تیز ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *