کراچی: پیٹرولیم اسمگلنگ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 4 کمپنیوں نے لاکھوں لیٹر ہائی اسپیڈ تیل کلیئر کروا لیا

رپورٹ : عمران خان
کراچی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کے نیٹ ورک سے متعلق بڑے انکشافات سامنے آگئے ہیں، جہاں کسٹمز حکام نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ہزاروں لیٹرز پر مشتمل اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پکڑ کر تیل کے کاروبار سے جڑے منظم نیٹ ورک کا پردہ چاک کردیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بعض پیٹرولیم ٹرمینلز اور کمپنیوں کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری دستاویزات کے غلط استعمال کے ذریعے بڑے پیمانے پر تیل کی غیر قانونی نقل و حمل جاری تھی۔

کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کے مطابق کیماڑی گیٹ نمبر 1 کے قریب دو آئل ٹینکرز کی تلاشی کے دوران 96 ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) برآمد کیا گیا جس کی مجموعی مالیت 8 کروڑ 93 لاکھ 60 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ کارروائی میں شامل ٹیم نے موقع پر ہی دونوں ٹینکرز کو ضبط کرتے ہوئے باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی۔

ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن (ASO) کی ٹیم نے کی جس کی قیادت پریونٹیو آفیسر مبشر نوید نے کی جبکہ ایس پی ایس نعیم احمد، آئی پی ایس فاروق احمد اور دیگر افسران بھی آپریشن میں شریک تھے۔ دورانِ تفتیش ڈرائیورز تسور عباس اور محمد امتیاز نے اعتراف کیا کہ یہ ٹینکرز بار بار ایک ہی نوعیت کے کاغذات کے ذریعے کیماڑی میں واقع مختلف آئل اسٹوریج مقامات تک تیل پہنچاتے رہے۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اب تک اسی طریقہ کار کے تحت 3 لاکھ 98 ہزار لیٹر سے زائد ہائی اسپیڈ ڈیزل منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ مزید 3 لاکھ 97 ہزار لیٹر سے زائد تیل مبینہ طور پر سرکاری گیٹ پاسز کے غلط استعمال سے منتقل کیا گیا۔ ابتدائی ریکارڈز کے مطابق M/s Caspian Oil، M/s Al-Rahim Trading Company، M/s Al-Noor Petroleum Pvt. Ltd. اور M/s Fuel XL Petroleum Pvt. Ltd. کے درمیان مبینہ ملی بھگت کے ذریعے یہ نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا، جہاں قانونی دستاویزات کی آڑ میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی ترسیل کی جاتی رہی۔

مزید کارروائی کے دوران کسٹمز نے ٹینک نمبر ATC-07 میں 10 لاکھ 50 ہزار لیٹر سے زائد ہائی اسپیڈ ڈیزل اور ٹینک نمبر ATL-11 میں 12 لاکھ 53 ہزار لیٹر سے زائد پیٹرول (PMG) ذخیرہ پایا، جسے فوری طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور تفصیلی ویری فکیشن جاری ہے۔ حکام نے مزید کئی ٹینکرز کو بھی تحویل میں لے لیا ہے جن پر اسمگلنگ کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ اسمگلرز اب جدید طریقے اختیار کرتے ہوئے ایک ہی گاڑی پر مختلف نمبر پلیٹس استعمال کر رہے ہیں اور دورانِ راستہ نمبر پلیٹس تبدیل کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف پیٹرولیم مصنوعات ہی نہیں بلکہ دیگر اسمگل شدہ اشیاء کی ترسیل میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔

یہ کارروائی اپنی نوعیت کی بڑی کارروائیوں میں شمار کی جا رہی ہے، جسے اعلیٰ حکام نے اسمگلنگ کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ اس مہم کی نگرانی کلیکٹر انفورسمنٹ عمر شفیق کر رہے ہیں جبکہ چیف کلیکٹر باسط عباسی کی ہدایات پر پورے شہر میں کریک ڈاؤن مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

مزید برآں ایڈیشنل کلیکٹر یاسر کلہور اور اسسٹنٹ کلیکٹر توفیق احمد بھی تحقیقات میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ متعلقہ ڈرائیورز، کمپنی مینیجرز اور ڈائریکٹرز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ مالیاتی ریکارڈ اور ٹیکس چوری کے مکمل نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

Check Also

جیولرز شاپ پر ایف آئی اے چھاپہ اور تشدد، کیس میں اہم پیشرفت ،مقدمہ درج ،سرکل انچارج کا تبادلہ

رپورٹ : عمران خانکراچی:صرافہ بازار میں اسمگل شدہ چاندی کی مبینہ اطلاع پر ایف آئی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *