کراچی کے نادرن بائی پاس پر 1100 ایکڑ رقبے پر قائم ‘عوام دوست منڈی’ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوگئی، جہاں قربانی کے 99 فیصد جانور فروخت ہونے کے بعد بیوپاری واپس اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہوگئے۔
ایڈمنسٹریٹر مویشی منڈی طارق تنولی کے مطابق اس سال منڈی میں ڈھائی لاکھ سے زائد جانور لائے گئے، جن میں سے تقریباً تمام جانور فروخت ہوچکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ، سفائر، گولڈن، پہاڑی، کراچی اور جنرل بلاکس مکمل طور پر خالی ہوچکے ہیں جبکہ خرید و فروخت کا عمل انتہائی کامیاب رہا۔
طارق تنولی کے مطابق 5 اپریل کو قائم کی گئی مویشی منڈی صرف خرید و فروخت تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک فیملی فیسٹول کا منظر پیش کرتی رہی، جہاں بچوں اور بڑوں نے فوڈ اسٹریٹ، مختلف کھانوں اور تربوز کے شربت سے خوب لطف اٹھایا۔
انچارج ایڈمنسٹریشن اسلم بلوچ نے بتایا کہ اب منڈی میں اونٹ، گائے، بیل اور بکرے ملا کر صرف 500 کے قریب جانور باقی رہ گئے ہیں، جن کے بھی جلد فروخت ہونے کی توقع ہے۔
ایڈمنسٹریٹر کے مطابق منڈی نے نہ صرف بیوپاریوں اور شہریوں کو سہولت فراہم کی بلکہ ٹھیلہ فروشوں، ہوٹل مالکان اور کیبن چلانے والوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کیے۔
انہوں نے الیکٹرونک، پرنٹ، سوشل اور عالمی میڈیا کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا، جبکہ آبائی علاقوں کو روانہ ہوتے بیوپاریوں نے ہاتھ ہلا کر کراچی کے شہریوں سے محبت اور تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔
THE PUBLIC POST