شارجہ میں پڑوسی لڑکیوں نے2 سالہ پاکستانی بچے کو تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا

شادی کے 5 سال بعد بیٹا پیدا ہوا، سیکنڈوں میں اجڑ گئے‘ اکلوتے بیٹے کی موت پر والد غمزدہ

شارجہ: متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ میں ایک انتہائی دل دہلا دینے والا اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک رہائشی عمارت کی تیسری منزل سے مبینہ طور پر پھینکے جانے کے باعث 2 سالہ پاکستانی بچہ جاں بحق ہو گیا۔ گلف نیوز کے مطابق شارجہ کی ایک رہائشی عمارت میں دو سالہ معصوم پاکستانی بچے محمد عرشمان کو تیسری منزل کی سیڑھیوں کی کھڑکی سے نیچے پھینک کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، عمارت میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں نے اس ہولناک واقعے سے قبل کے تمام لمحات کو محفوظ کرلیا۔

تحقیقاتی حکام نے کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا کہ حادثے سے کچھ دیر پہلے دونوں لڑکیاں اپارٹمنٹ کے باہر کوریڈور میں معصوم بچے کے ساتھ کھیل رہی تھیں، ایک لڑکی نے سیڑھیوں کی طرف جانے والا دروازہ کھولا اور ہاتھ کے اشارے سے معصوم بچے کو اپنے پاس بلایا، دوسری لڑکی پہلے ہی سیڑھیوں والے حصے کے اندر موجود تھی، جیسے ہی بچہ معصومیت اور بھروسے میں ان کی طرف بڑھا، لڑکی نے فوری طور پر دروازہ بند کردیا۔

بتایا گیا ہے کہ دروازہ بند کرنے والی لڑکی نے اپنے کان پر ہاتھ رکھا اور وہاں سے تیزی سے بھاگ گئی، چند ہی لمحوں بعد اندر موجود دوسری لڑکی بھی باہر آئی، اس نے اپنے ہاتھ جھٹکے اور انتہائی پرسکون انداز میں وہاں سے چلتی بنی، دونوں لڑکیوں نے مبینہ طور پر بچے کو تیسری منزل پر سیڑھیوں کے پاس بنے ایک کھلے حصے سے نیچے پھینک دیا، جس کے باعث بچہ تقریباً 14 میٹر کی بلندی سے سیدھا نیچے زمین پر جا گرا۔

مقتول بچے کے والد سجاد حسین جو گزشتہ 20 سالوں سے یو اے ای میں کنسٹرکشن کے شعبے سے وابستہ ہیں، انہوں نے انتہائی غمزدہ حالت میں بتایا کہ محمد عرشمان شادی کے 5 سال بعد پیدا ہوا تھا اور وہ ان کی پوری فیملی کی زندگی کا مرکز تھا، ان کی ایک دو ماہ کی بیٹی بھی ہے، واقعے کے وقت بچہ باہر کوریڈور میں کھیل رہا تھا اور بچے کی ماں صرف ایک منٹ کے لیے اپارٹمنٹ کے اندر گئی تھی۔

سجاد حسین نے روتے ہوئے تمام والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگیوں کے معاملے میں ہر وقت چوکنا رہیں، ہماری زندگی بدلنے میں ایک منٹ سے بھی کم وقت لگا، اس لیے اپنے بچوں کی حفاظت کے معاملے میں کبھی کسی دوسرے پر اندھا بھروسہ نہ کریں، ہم ابھی اس وقت اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان واپس آ چکے ہیں لیکن جلد ہی یو اے ای واپس لوٹ جائیں گے۔

بلڈنگ کے چوکیدار نے بتایا کہ اس نے عمارت میں چیخ و پکار کی آوازیں سنیں، جب وہ چیک کرتے ہوئے گراؤنڈ فلور پر پہنچا تو وہاں بچے کی ماں تڑپ رہی تھی اور مدد کیلئے پکار رہی تھی، میں نے فوری طور پر ایمرجنسی سروسز کو کال کی اور بعد میں کیمرے چیک کرکے پولیس کو اطلاع دی، جبکہ واقعے کے بعد دونوں لڑکیاں اتنی پرسکون تھیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور وہ معمول کے مطابق گھوم رہی تھیں، جس پر پوری بلڈنگ کے لوگ شدید صدمے میں ہیں۔

شارجہ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کیس کو باقاعدہ طور پر انویسٹی گیشن اور پوچھ گچھ کے لیے چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹیز کے سپرد کر دیا گیا ہے، پولیس، سی آئی ڈی اور فرانزک ٹیموں نے عمارت سے تمام شواہد اور فوٹیج جمع کر لی ہے، ابھی تک اس لرزہ خیز اقدام کے پیچھے چھپی اصل وجہ اور مقصد واضح نہیں ہو سکا، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تفتیش کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

Check Also

امریکا اور ایران میں بڑھتی کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو پر لگ گئے

امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی اور کویت و بحرین پر حملوں کے بعد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *