لڑکیوں سے مبینہ زیادتی اور ایک لڑکی کے اغوا و ریپ کے دعووں پر مبنی مقدمے کا ڈراپ سین ہوگیا۔ 22
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں سماعت کے دوران تفتیشی افسر سب انسپکٹر روبینہ شاہین 22 لڑکیوں سے زیادتی کے الزامات کے حوالے سے کوئی قابلِ قبول شواہد پیش نہ کر سکیں۔
سماعت کے دوران مبینہ متاثرہ لڑکی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے اغوا اور زیادتی کے الزامات کو مسترد کردیا۔ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے نریش کے ساتھ گئی تھی، دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی رضامندی سے شادی کی ہے۔
لڑکی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس کے خلاف درج اغوا اور زیادتی کا مقدمہ جھوٹا ہے جبکہ پولیس اسے اور اس کے شوہر کو ہراساں کر رہی ہے۔ عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں لڑکی نے کہا کہ دونوں خاندانوں کو اس شادی پر کوئی اعتراض نہیں، اس لیے وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے لڑکی کا بیان ریکارڈ پر لاتے ہوئے اسے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور ملزم کو 50 ہزار روپے کے حفاظتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ مقدمہ نیپیئر تھانے میں درج کیا گیا تھا، تاہم عدالتی کارروائی کے بعد کیس کے اہم الزامات کی نوعیت تبدیل ہو گئی ہے۔
THE PUBLIC POST