حیدرآباد میں ایس ایس پی آفس کے باہر مبینہ احتجاج، ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جونیئر کلرک ماریہ ساریو سمیت 15 خواجہ سرا افراد کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق جونیئر کلرک ماریہ ساریو پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے تبادلے کے خلاف احتجاج کے لیے خواجہ سراؤں کو اکٹھا کیا اور انہیں ہنگامہ آرائی پر اکسایا۔ رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران خواجہ سراؤں نے ایس ایس پی آفس کے باہر شور شرابا کیا اور مبینہ طور پر لیڈیز پولیس اہلکاروں کے ساتھ نازیبا زبان بھی استعمال کی۔
واقعے کا نوٹس ایس ایس پی حیدرآباد نے لیا، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور کارروائی کرتے ہوئے ماریہ ساریو سمیت 15 افراد کو حراست میں لے لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، ہنگامہ آرائی اور قانون ہاتھ میں لینے کے الزامات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔
THE PUBLIC POST