پشاور:خیبر پختونخواہ میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جاری تیز موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث مختلف حادثات میں 12 افراد جاں بحق اور 18 افراد شدید زخمی ہو گئے، پی ڈی ایم اے نے صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کردی، سیاحوں کو بالائی علاقوں کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیلابی ریلوں میں بہنے، گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے مجموعی طور پر 12 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 5 مرد، 5 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں، مختلف حادثات میں 18 افراد زخمی ہوئے، جن میں 10 مرد، 4 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں، تیز بارشوں کے باعث 18 مکانات تباہ ہوئے، جن میں سے 15 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 3 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ افسوسناک حادثات صوبے کے متعدد اضلاع میں پیش آئے جن میں، پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، چترال لوئر، دیر لوئر و اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تور غر، کرم اور شمالی وزیرستان شامل ہیں، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو فوری سامان اور مالی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، فی الوقت صوبے کے تمام دریاؤں، ندی اور نالوں میں پانی کی سطح اور بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ 23 جولائی 2026ء تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، اس دوران شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ بلاوجہ سفر سے گریز کریں، حساس یا خطرے سے دوچار سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی ایڈوائزری پر عمل کریں، پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل فعال ہے، شہری کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع یا موسمی صورتحال جاننے کے لیے ٹول فری نمبر 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ تیز بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث حکام کی جانب سے سڑک تمام ٹریفک کے لیے بند کیے جانے کے بعد سیاح جھیل سیف الملوک کا سفر نہیں کرسکتے، یہ پابندی حالات بہتر ہونے تک برقرار رہے گی، کیوں کہ ایک دن پہلے بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے راستے کا ایک حصہ بہہ گیا تھا، جس سے ہزاروں سیاح پھنس کر رہ گئے تھے، پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے تمام پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ طریقے سے ناران منتقل کردیا، اور ڈپٹی کمشنر مانسہرہ نے حفاظتی اقدام کے طور پر سڑک بند کرنے کا حکم دیا۔
THE PUBLIC POST