حاملہ خواتین 45 کیمیکلز کےزیر اثر رہتی ہیں، تحقیق میں انکشاف

ایک نئی سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ حاملہ خواتین روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی متعدد عام اشیاء کے ذریعے مسلسل ایسے کیمیکلز کے زیرِ اثر رہتی ہیں جو قبل از وقت پیدائش اور نومولود بچوں کے کم وزن سے تعلق رکھتے ہیں۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے 2000 سے 2021 کے درمیان بچوں کو جنم دینے والی 5000 سے زائد خواتین کے پیشاب کے نمونوں کا تجزیہ کیا اور نتائج کا موازنہ حمل کے دوران پیش آنے والے طبی حالات سے کیا۔

اس دوران 113 مختلف کیمیکلز کی جانچ کی گئی جو عموماً خوراک، پینے کے پانی، فضائی آلودگی، ذاتی نگہداشت کی مصنوعات، خوشبوؤں اور گھریلو استعمال کی دیگر اشیاء میں پائے جاتے ہیں۔

تحقیق میں اوسطاً ہر خاتون کے نمونے میں 45 مختلف کیمیکلز پائے گئے جبکہ بعض خواتین کے جسم میں یہ تعداد 64 تک ریکارڈ کی گئی۔

ان کیمیکلز میں پلاسٹک کو زیادہ نرم اور لچکدار بنانے کے لیے استعمال کیے جانے والے کیمیکل فیتھالیٹس بھی شامل تھے۔ ساتھ ہی ان کے متبادل کے طور پر متعارف کرائے گئے بعض نئے کیمیکلز بھی شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق ان میں سے کئی کیمیکلز کا تعلق بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور پیدائش کے وقت کم وزن سے پایا گیا۔

تحقیق کی سینئر محقق ٹریسی ووڈ رف نے کہا کہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ زہریلے کیمیکلز کے متبادل کے طور پر متعارف کرائے گئے بعض نئے مرکبات بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ پولی سائکلک ایرومیٹک ہائیڈروکاربنز (پی اے ایچز) نامی کیمیائی مرکبات، جو کوئلہ، تیل، گیس اور لکڑی جلانے سے پیدا ہوتے ہیں، نومولود بچوں کے کم وزن سے منسلک ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ آلودہ ذرات فضا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے مرکزی مصنف نے خبردار کیا کہ ان کیمیکلز سے مکمل طور پر بچنا آسان نہیں، کیونکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی بے شمار مصنوعات کا حصہ بن چکے ہیں۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاملہ خواتین اور پالیسی ساز اداروں کو ممکنہ خطرات کے بارے میں بہتر آگاہی حاصل ہو سکتی ہے تاکہ ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

Check Also

اسکواش چیمپین شپ: پاکستان ٹیم ون نے دو میچ جیت لیے، جمعہ کو بھارت سے مقابلہ ہوگا

تیسری ایشین ڈبل اسکواش چیمپین شپ میں پاکستان ٹیم ون نے اپنے دونوں میچز جیت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *