وزیر اعظم نے آج پیٹرول کی قیمت میں کمی کرنے کا اعلان کردیا

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں جاری ہے جس میں وزیر اعظم اظہار خیال کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے تو حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم نے ایوان میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور بیرسٹر گوہر علی خان کی نشستوں پر جا کر ان سے مصافحہ بھی کیا۔

وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ نے اپنے کرم سے پاکستان کو عزت عطا کی، پوری قوم مبارکباد کی حقدار ہے، عمر بھر اس مالک کا سجدہ ریز ہوکر شکریہ ادا کرتے رہیں تو نہیں کر سکتیں، صدیاں گزر جاتی ہیں مگر قوموں کو ایسی عزت نہیں ملتی جو ہمیں ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں پاکستان کا نام گونج رہا ہے، اگر یہ ایوان اس حوالے سے متفقہ قرارداد منظور کرے تو دنیا میں اتحاد کا پیغام جائے گا، اپوزیشن لیڈر اور سب اراکین سے کہوں گا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر قومی عبادت کے لیے ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس عالمی امن معاہدے میں سب سے زیادہ کلیدی رول فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہے، سید عاصم منیر نے دو تین ماہ راتوں میں جاگ کر گزارے ہیں، اللہ پاک نے انتھک محنت اور خلوص نے ہمیں کامیابی دی۔

شہباز شریف نے کہا کہ کریڈٹ لینے کا کوئی شوق نہیں، قوم کو کریڈٹ دینے کا شوق تھا، نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے بھی اپنا متحرک کردار ادا کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل نے امن کیلئے انتھک کام کیا، کئی مواقع ایسے آئے کہ لگ رہا تھا کہ مذاکرات ختم ہوگئے، وزیر نائب وزیر اعظم کا شکریہ اور مبارک باد دینا چاہتا ہوں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا، میں اپوزیشن لیڈر اور اراکین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،
کل شام کو ایران کے صدر نے ٹیلی فون کال کی، مسعود پزشکیان نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا ، مسعود پزشکیان نے نام لے کے فیلڈ مارشل کا نام لے کر شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایرانی صدر کو پاکستان آنے کی دعوت دی، میں نے بتایا کہ پاکستان ہمسایہ ملک نہیں بلکہ برادر ملک ہے، ایران نے میری دعوت قبول کی اور پہلی فرصت میں آنے کا وعدہ کیا، ایرانی صدر نے علی خامنائی کے جنازہ میں شرکت کی دعوت دی، پاکستان کا وفد علی خامنائی کے جنازہ میں شرکت کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہوئیں ہیں امید ہے اور کم ہونگی، حکومت نے اس مہنگائی کے طوفان سے عام آدمی کو بچانے کے لیے کوشش کی، وہ سیاہ رات اب ختم ہونے کو ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج جمعہ کا مبارک دن ہے آج پیٹرول کی قیمتوں کا اعلان کرنا ہے، آج انشاء اللہ خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا، اس ضمن میں صوبائی حکومتوں کو بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ،وزیر پیٹرولیم اور سیکرٹری پیٹرولیم، وزیر خزانہ کو شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، انھوں نے مشکل حالات میں حالات بہتر رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں نہ پیٹرول پمپس پر لائینیں لگیں نہیں تو سری لنکا میں سب کو معلوم ہے کیا ہوا، امریکہ کی لیڈر شپ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا پھرپور حصہ ڈالا، قطر، چین، ترکی، سعودی عرب کا اس میں اہم کردار ہے، یہ عزت وقار صدیوں میں نہیں ملتا، اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، اس ایوان سے قومی یکجہتی کا پیغام جانا چاہیے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بجٹ اجلاس میں ارکان کی تقاریر اور بحث کے دورانیے کی تفصیلات ایوان میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی ارکان کے لیے مختص وقت میں ابھی تقریباً ڈھائی گھنٹے باقی ہیں اور وہ مزید بجٹ پر اظہار خیال کر سکتے ہیں۔

اسپیکر کے مطابق اپوزیشن کے 66 ارکان نے بجٹ بحث میں حصہ لیا، جن کے لیے مجموعی طور پر 9 گھنٹے مقرر کیے گئے تھے، اپوزیشن ارکان نے 14 گھنٹے 4 منٹ تک تقاریر کیں، جو مقررہ وقت سے 5 گھنٹے 3 منٹ 28 سیکنڈ زیادہ ہے۔

ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن اکثر یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ اسے بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی، جبکہ گزشتہ روز ارکان کو بار بار کہا گیا کہ جو رکن چاہے بجٹ پر تقریر کر لے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کو جان بوجھ کر تقریباً آدھا گھنٹہ اضافی چلایا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ ارکان اظہار خیال کر سکیں۔

اسپیکر کا کہنا تھا کہ حکومتی ارکان کو بھی بارہا تقریر کے لیے دعوت دی گئی، تاہم شام کے وقت حکومت کا کوئی رکن اظہار خیال کے لیے ایوان میں نہیں آیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آج نماز جمعہ سے قبل قومی اسمبلی کا اجلاس کل تک ملتوی کر دیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تیسری عالمی جنگ کے خطرات کو ٹالنے میں کردار ادا کیا ہے اور عالمی امن کے لیے خدمات پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر مبارک باد کے مستحق ہیں۔

راجہ پرویز اشرف نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ ناکافی ہے اور اسے کم از کم دس فیصد تک بڑھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مشکل معاشی حالات کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد تک اضافہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ اسی وقت حقیقی معنوں میں عوامی بجٹ بنے گا جب عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے، کیونکہ سیاسی استحکام سے مشترکہ پالیسیاں تشکیل پائیں گی، جس کے نتیجے میں امن، بہتر معیشت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ اتحاد ہی ملک کو آگے لے جا سکتا ہے اور غربت کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ الزامات کی سیاست ختم کر کے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے۔

آزاد کشمیر کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وہاں کے حالات پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر وہ مذاکراتی وفد کا حصہ بن کر آزاد کشمیر گئے تھے، جہاں مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ بات چیت ہوئی اور تقریباً 80 فیصد مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ زیر التوا رہا جبکہ دیگر مطالبات فوری طور پر مان لیے گئے، جن میں تین روپے فی یونٹ بجلی اور آٹے پر سبسڈی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کا مسئلہ اب بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور محاذ آرائی یا معاشرتی جمود سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق ریاست کو مزید لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے، تاہم ریاست کی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ ایک نئی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے جو آزاد کشمیر میں فریقین کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کرے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ خطے میں کشیدگی سے اسرائیل اور بھارت خوش ہو رہے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج ختم کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور حکومت و مظاہرین باہمی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔

Check Also

کرنٹ لگ جائے تو کیا کریں؟ وہ 4 فوری اقدامات جو کسی کی جان بچا سکتے ہیں

بجلی کا کرنٹ لگنا ایک ایسا خطرناک حادثہ ہے جس کی وجہ سے ہر سال …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *