اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ نائن میں واقع ہفتہ وار سستا بازار میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 335 دکانیں اور اسٹالز جل کر خاکستر ہوگئے جبکہ آگ پر قابو پانے کے لیے ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے طویل جدوجہد کی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ اچانک لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر گئی، جس نے بازار کے متعدد سیکشنز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ابتدائی طور پر 70 سے زائد دکانوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں تاہم وقت کے ساتھ ساتھ نقصان میں اضافہ ہوتا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ بجھانے کے لیے راولپنڈی سے اضافی فائر بریگیڈ گاڑیاں بھی طلب کی گئیں جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف رہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 9 سیکشنز متاثر ہوئے جن میں سے 7 پر قابو پا لیا گیا تھا جبکہ آگ پر تقریباً 80 فیصد تک قابو حاصل کر لیا گیا۔
انتظامیہ نے بتایا کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم کپڑوں اور دیگر اشیاء کے اسٹالز مکمل طور پر جل گئے۔
دوسری جانب تاجروں نے انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بروقت موقع پر نہیں پہنچ سکیں جس کے باعث نقصان میں اضافہ ہوا۔ تاجروں کے مطابق بازار میں آگ بجھانے کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے۔
بازار کے صدر عبدالرحمان خان نے واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آگ حادثہ نہیں بلکہ سازش کے تحت لگائی گئی ہے۔ تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ بار بار ایسے واقعات کا ہونا سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے مستقل حفاظتی اقدامات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا۔
ضلعی انتظامیہ نے آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
THE PUBLIC POST