کراچی کے علاقے قائد آباد میں 3 سالہ بچی کو تشدد کے بعد قتل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعےکا مقدمہ تھانا قائد آباد میں والد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، مقدمے میں اغوا، زیادتی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
متاثرہ بچی کے والد کا کہنا ہے کہ میری بیٹی گھر سے باہرگئی اور واپس نہیں آئی جس پر اہلیہ نے کال کرکے اطلاع دی، ہم نے بچی کو تلاش کیا لیکن کچھ پتہ نہیں چل سکا، جب رات میں گھر پہنچے تو محلےمیں ہجوم تھا، محلے والوں نے بتایاکہ نامعلوم افراد بیٹی کی لاش بوری میں پھینک کرگئے ہیں، بچی کے دادا نے میری بیٹی کلثوم کی لاش کی تصدیق کی تھی۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے، کمیٹی میں ایس ایس پی ایس آئی یو، ایس ایس پی اور ایس ایس پی اسپیشل برانچ سمیت دیگر ادارے بھی شامل ہیں۔
ترجمان سندھ پولیس کے مطابق کمیٹی تمام پہلوؤں کاجائزہ لےکر جلد رپورٹ پیش کرے گی جبکہ کمیٹی روزانہ کیس میں ہونیوالی پیشرفت سے آئی جی سندھ کو آگاہ کرے گی۔
اس حوالے سے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ قتل میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ملزمان کو سخت سزا دلانے کیلئے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے، متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے: ڈاکٹر سمعیہ سید
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوئی ہے، وجہ موت کے تعین کیلئے پوسٹ مارٹم رپورٹ محفوظ کرلی گئی ہے جبکہ کیمیکل ایگزامن رپورٹ آنے پر موت کی وجہ کا تعین ہوگا۔
THE PUBLIC POST