پلاسٹک مارکیٹ میں مبینہ اربوں روپے کی بے ضابطگیاں،40، 50 سال سے بیٹھے تاجروں کے کرائے میں 1200 سے 35 ہزار روپے اضافہ کیا گیا، شریف میمن، چیئرمین سندھ تاجر الائنس

کراچی(اسٹاف رپورٹر) چیئرمین سندھ تاجر الائنس اور چئیرمین بولٹن مارکیٹ تاجر اتحاد شریف میمن نے کہا ہے کہ بولٹن مارکیٹ، پلاسٹک مارکیٹ میں مبینہ طور پر کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کے ایم سی کی ملکیتی زمین پر مبینہ طور پر اتنی بڑی تعداد میں غیر قانونی دکانیں کیسے قائم ہوئیں اور ان سے کروڑوں، اربوں روپے کا کاروبار کس قانون اور کس معاہدے کے تحت کیا گیا؟

شریف میمن میں کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق کے ایم سی کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ 25 دکانیں کے ایم سی کو ملیں گی جبکہ 25 دکانیں تعمیر کرنے والے بلڈر کو ملیں گی اگر یہ شرائط طے کی گئی تھیں تو پھر سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود سینکڑوں دکانیں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر کیسے بن گئیں؟ ان دکانوں کی تعمیر، الاٹمنٹ اور وصولیوں کا ذمہ دار کون ہے؟شریف میمن کا کہنا ہے کہ دوسرا بڑا مسئلہ ان تاجروں کا ہے جو 40، 50 سال سے عرصۂ دراز سے انہی دکانوں میں اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔

جن تاجروں کی دکانوں کا ماہانہ کرایہ صرف بارہ سو روپے تھاان کا کرایہ اچانک بڑھا کر مبینہ طور پر 35,000 روپے ماہانہ کر دیا گیا۔ آخر کئی دہائیوں سے کاروبار کرنے والے ان تاجروں پر اتنا بڑا مالی بوجھ کس قانون اور کس اختیار کے تحت ڈالا گیا؟ تاجروں سے مبینہ طور پر وصول کیا گیا اضافی مال واپس کیا جائے شریف میمن کا کہنا ہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گزشتہ عرصے کے دوران تاجروں سے مبینہ طور پر ناجائز، غیر قانونی یا غیر مجاز طور پر وصول کی گئی رقوم کا مکمل فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔

اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو کہ تاجروں سے غیر قانونی طور پر رقم وصول کی گئی ہے تو وہ رقم ان متاثرہ دکانداروں کو واپس کی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےیہ بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے کہ کے ایم سی کی ملکیتی زمین اور دکانوں کے حوالے سے کس کس تاجر سے کتنی رقم وصول کی گئی، کس کے ذریعے وصول کی گئی،

کس اکاؤنٹ یا مد میں وصول کی گئی اور اس رقم کا قانونی و مالی ریکارڈ کہاں موجود ہے کے ایم سی کی ملکیت دوبارہ کے ایم سی کے پاس ہونی چاہیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو کہ کے ایم سی کی ملکیتی زمین یا دکانوں کو غیر قانونی طور پر نجی افراد کے حوالے کیا گیا، پرائیوٹائز کیا گیا یا غیر قانونی لیزز جاری کی گئیں تو ایسے تمام معاملات کی مکمل قانونی جانچ کی جائے اور زمین و املاک کو قانون کے مطابق دوبارہ کے ایم سی کے کنٹرول میں لایا جائے

آئندہ آنے والے میئر یا ایڈمنسٹریٹر کو اس معاملے میں تمام قانونی ریکارڈ اور اصل ملکیتی حیثیت واضح طور پر فراہم کی جائے تاکہ کے ایم سی کی ملکیتی جگہ پر حقیقی اور قانونی طور پر مستحق تاجروں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے ہماری تجویز اور مطالبہ ہے کہ جو دکاندار طویل عرصے سے قانونی طور پر دکانوں میں کاروبار کر رہے ہیں اور باقاعدگی سے کرایہ ادا کرتے رہے ہیں، ان کے قانونی کرایہ داری حقوق کو تحفظ دیا جائے

انہیں کسی غیر قانونی نجی انتظام یا تیسرے فریق کے ذریعے بے دخل کرنے کے بجائے قانون کے مطابق ان کی کرایہ داری اور حقوق تسلیم کیے جائیں کے ایم سی کی ملکیت پر مبینہ غیر قانونی لیز اور پرائیوٹائزیشن کی تحقیقات کی جائیں یہ بھی سنگین سوال ہے کہ اگر زمین اور جائیداد کے ایم سی کی ملکیت تھی تو پھر اس پر نجی افراد کے نام پر مبینہ لیز یا پرائیوٹائزیشن کس اختیار کے تحت کی گئی؟ اطلاعات کے مطابق بعض معاملات میں کے ایم سی کی ملکیتی جگہ پر مبینہ طور پر غیر قانونی لیزز کی گئیں اور اس عمل کے ذریعے لاکھوں روپے وصول کیے گئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام مبینہ لیزز، الاٹمنٹس، پرائیوٹائزیشن، معاہدوں اور وصولیوں کی مکمل فہرست تیار کی جائے

، ہر دکان اور ہر لیز کی قانونی حیثیت کی جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ کس نے کس اختیار کے تحت یہ معاملات کیے اگر کسی سرکاری افسر، بلڈر، نجی فریق یا کسی دوسرے شخص کی جانب سے کے ایم سی کی ملکیت کو غیر قانونی طور پر استعمال کرتے ہوئے رقم وصول کرنے کا جرم ثابت ہو تو نہ صرف رقم کی واپسی بلکہ ذمہ داران کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائےعمارت کے نقشے، ساختی مضبوطی اور اضافی تعمیرات کی بھی تحقیقات کی جائیں

اس معاملے میں صرف دکانوں کی تعداد اور کرایوں کی تحقیقات کافی نہیں بلکہ پوری عمارت کا منظور شدہ نقشہ بھی نکالا جائے اور اس کی مکمل تکنیکی و ساختی جانچ کرائی جائے یہ واضح کیا جائے کہ موجودہ عمارت کتنے فلورز کے لیے منظور کی گئی تھی، اس کی تعمیراتی گنجائش کیا ہے اور آیا موجودہ عمارت مزید بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں اگر عمارت کے اوپر مزید فلور تعمیر کیے جانے کی کوئی تجویز یا منصوبہ ہے تو آزاد ماہرین سے یہ جانچ کرائی جائے کہ عمارت کی بنیاد اور اسٹرکچر مزید منزلوں کا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں یا نہیں
اسی طرح اگر عمارت میں پارکنگ کی سہولت یا پارکنگ کا اضافی بوجھ رکھا جا رہا ہے تو اس کی بھی مکمل انجینئرنگ اور اسٹرکچرل اسیسمنٹ کرائی جائے عوام اور تاجروں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمارت کا منظور شدہ نقشہ، بلڈنگ پلان، اسٹرکچرل ڈیزائن، تعمیراتی اجازت نامے اور موجودہ ساختی حالت کی مکمل تحقیقات پر مبنی رپورٹ تیار کی جائے اور عوام کے سامنے لائی جائے

ہم میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور کے ایم سی کی ملکیتی زمین پر قائم دکانوں، مبینہ غیر قانونی تعمیرات، معاہدوں، لیزز، پرائیوٹائزیشن، کرایوں اور مالی معاملات کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائیں ہم نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کے متعلقہ حکام سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی فرد، بلڈر یا سرکاری اہلکار کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی یا مالی بے ضابطگی ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے

ہم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ 40، 50 سال سے کاروبار کرنے والے تاجروں کے مسائل کا فوری نوٹس لیا جائے، ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر وصول کی گئی رقوم کی واپسی یقینی بنائی جائے جس دکان کا کرایہ بارہ سو 1200 روپے تھا، اسے اچانک 35,000 روپے ماہانہ کر دینا تاجروں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پرانے تاجروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے

، تمام قانونی دستاویزات اور معاہدے منظرِ عام پر لائے جائیں، مبینہ غیر قانونی دکانوں، لیزز اور پرائیوٹائزیشن کی تحقیقات کی جائیں اور تاجروں سے غیر قانونی طور پر وصول کی گئی رقم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں واپس کی جائے اگر کراچی کے تاجروں کے ساتھ یہ ناانصافیاں جاری رہیں گی تو ہم یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہوں گے کہ کراچی کے تاجروں کو کب انصاف ملے گا؟ یا تو کراچی کو صوبہ بنا کر وفاق کے حوالے کیا جائے، یا پھر تاجروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا سلسلہ بند کیا جائے

Check Also

قتل بالسبب کا مقدمہ:کوکین کوئین انمول عرف پنکی پر فرد جرم عائد

کراچی کی مقامی عدالت نے قتل بالسبب کے مقدمے میں کوکین کوئین انمول عرف پنکی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *