عمران خان ایک ہی بات دہرا رہے تھےکہ مجھ پر بہت ظلم ہو رہا ہے، عظمیٰ خان

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے گزشتہ شب سابق وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ “وہ بار بار ایک ہی بات کر رہے تھے کہ مجھ پر بہت ظلم ہو رہا ہے”۔

یاد رہے کہ منگل کو سپریم کورٹ نے علاج کے لیے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق انہیں اس فیصلے کے دوسرے دن یعنی جمعرات اور جمع کی درمیانی شب سرکاری اسپتال پمز لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز سے ‘تفصیلی معائنے’ کے بعد انہیں ‘صحت مند’ قرار دیا۔

عدالت نے ان کی صحت پر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور اس میں ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل کو بھی شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔ گزشتہ شب کے اسپتال دورے اور سابق وزیر اعظم سے ملاقات کے بارے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمی نے کہا عمران خان “بار بار مرسی کا نام لے رہے تھے” اور خدشہ ظاہر کر رہے تھے انہیں مرسی کی طرز پر مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عمران خان کا کوئی بلڈ ٹیسٹ نہیں ہوا صرف آنکھوں کا چیک اپ کیا گیا اور بلڈ پریشر چیک کیا گیا جب میں نے ان سے پوچھا خان صاحب کونسی میڈیسن لے رہے تو کہتے مجھے نام یاد نہیں میں نے فائلیں چیک کیں میں نے کہا میڈیسن آپ نے دی ہیں آپ کے ریکارڈ میں نہیں ہے؟ یہ کیا طریقہ ہے؟ اتنا غلط طریقہ… pic.twitter.com/ujx4LcGnEC

— PTI (@PTIofficial) August 21, 2026

یاد رہے کہ محمد مرسی مصر کے سابق صدر تھے جو اقتدار سے معزولی کے بعد قید کے دوران 17 جون 2019 کو عدالت میں پیشی کے دوران گر کر انتقال کر گئے تھے۔ مصری حکام کے مطابق 67 سالہ مرسی دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوئے تھے جبکہ ان کی جماعت اخوان المسلمین نے ان کی موت کو قتل قرار دیا تھا۔ جیل میں مشکلات پر بات کرتے ہوئے عظمیٰ کا کہنا تھا کہ عمران نے بتایا کہ گزشتہ 10 ماہ سے انہیں بہت ٹارچر کیا گیا۔ “میرے سر کو کچھ ہوتا تھا، میں ان کو بتایا تھا مگر کچھ نہیں کرتے تھے، بی پی بھی نہیں چیک کرتے تھے۔” عظمیٰ خان کے مطابق عمران خان نے مزید بتایا کہ 10 مہینے سے نہ ٹی وی ہے نہ پڑھنے کے لیے کچھ، سر میں کچھ ہو رہا ہوتا ہے، پہلے دل کی دھڑکن 42 سے زیادہ نہیں ہوتی تھی اور بلڈ پریشر 120 سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ ان کے بقول عمران خان جیل کے ڈاکٹروں کو کہتے رہے، یکم اگست کو ایک ڈاکٹر نے دیکھا اور دوائی دی، پھر 10 اگست کو جس نے دیکھا اس نے کہا کہ انسانوں سے رابطے نہ ہونے کی وجہ سے اینگزائٹی ہے۔

“عمران خان نے ایک بات بار بار مجھے کہی کہ میرے ساتھ ظلم ہورہا مجھے یہ ٹارچر کررہے ڈاکٹرز کہتے طبیعیت خرابی کی وجہ humans contact نہ ہونا ہے۔ جیل کے ڈاکٹرز نے ان کو میری طبیعت خرابی کا بار بار بتایا لیکن کوئی سنتا ہی نہیں تھا ۔ دس اگست کو جو ڈاکٹرز آئے انہوں نے کہا کہ آپ کو جو… pic.twitter.com/rYKXmwTPEX

— PTI (@PTIofficial) August 21, 2026

ان کے مطابق عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ “میرے اوپر ظلم کر رہے ہیں، یہ انسان نہیں ہیں۔” عظمیٰ کا کہنا تھا کہ “میں نے [عمران خان کو] کہا کہ ساری قوم آپ کے ساتھ ہے، ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے، جس نے بھی تمہارے ساتھ ایسا کیا۔۔۔کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔” اس پر بہن کے مطابق عمران خان نے “سہیل [آفریدی] کے لیے کہا کہ اپنی موومنٹ تیز کرو، جو بھی کر رہے اس میں تیزی لاؤ۔”

’میں سمجھی شفا جا رہے ہیں‘
اڈیالہ سے اسپتال روانگی کی روداد سناتے ہوئے عظمیٰ خان نے کہا کہ وہ رات سوا 8 بجے کے قریب اڈیالہ جیل پہنچ چکی تھیں، جہاں سے انہیں ساڑھے 12 کے قریب ایک الگ گاڑی میں بٹھایا گیا جو ایک تاریک سٹرک پر چل پڑی۔ ان کے بقول وہ سمجھی تھی شفا اسپتال جا رہے ہیں لیکن گاڑی ایک تاریک جگہ پر رکی اور وہاں ہمیں بتایا گیا کہ یہ پمز اسپتال ہے۔

“مجھے جس راستے سے لائے وہ خالی تھا، کوئی رش نہیں تھا، اڑتے جارہے تھے۔”

ان کا کہنا تھا کہ پمز میں رات کے 2 یا 3 بجے پہلے عمران خان کا بلڈ پریشر چیک کیا گیا جو 120 بائی 70 یا 80 تھا، اس کے بعد ان کی آنکھ میں انجیکشن لگایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پوچھ رہے تھے کہ “یہ کیا ہو رہا ہے، جس پر میں نے بتایا کہ سپرریم کورٹ نے فیصلے پر ابھی آپکو ہم نے شفا لے کر جانا ہے، اور وہاں پر آپکا مکمل معائنہ ہوگا۔۔۔تو وہ خوش تھے، کہتے ٹھیک ہے۔

” ڈاکٹر عظمیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو بلڈ پریشر کا مسئلہ نہیں بلکہ قید تنہائی کی وجہ سے اینگزائٹی ہے جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔

عظمیٰ خان نے دعویٰ کیا کہ پمز میں سب کچھ بہت جلدی میں ہو رہا تھا جبکہ عمران خان کی کوئی بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں ہوا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے عمران خان کو مکمل صحت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں پمز اسپتال میں عمران خان کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔

حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہوئی، سہیل آفریدی
اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی خطاب کیا جن کا کہنا تھا کہ ججز کے آرڈر کے مطابق عمران کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہ کرکے حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ عدالتی احکامات کی حکم عدولی سے مثبت پیغام نہیں جائے گا۔

وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “نہ یہ عدلیہ مانتے ہیں، نہ ججز مانتے ہیں، نہ آئین مانتے ہیں اور نہ قانون مانتے ہیں۔۔۔۔ہم اپنی تحریک چلائیں گے، عمران خان صاحب کا حکم ہے اور ان کا حکم سر آنکھوں پر”

اس موقع پر عظمیٰ خان نے انہیں یاد دہانی کرائی کہ عمران نے کہا ہے کہ ‘اس (تحریک) کو تیز کردو’ جس پر سہیل آفریدی نے کہا کہ “یہ پہلے سے زیادہ تیز ہوگا، کل میں ہنگو جا رہا ہوں، پرسوں بونیر جا رہا ہوں، اور اس طرح پورے پاکستان میں جاؤں گا۔”

Check Also

کراچی کو خطے میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا مرکز بنانے کا فیصلہ

کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو خطے میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *