کارساز میں گاڑی کی ٹکر سے باپ بیٹی کی موت،ڈرائیور نتاشا منشیات کیس میں بھی بری قرار

کراچی کی ایک مقامی عدالت نے 2 سال قبل کارساز میں گاڑی کی ٹکر سے باپ بیٹی کی موت کا سبب بننے والی نتاشا دانش کو منشیات کیس میں ناکافی شواہد کی بنا پر بری کردیا۔

19 اگست 2024 کو نتاشا دانش نے کارساز میں تیز رفتار ٹویوٹا لینڈ کروزر سے 3 موٹر سائیکلوں اور ایک گاڑی کو ٹکر ماری تھی، جس کے نتیجے میں 60 سالہ عمران عارف اور ان کی 22 سالہ بیٹی آمنہ جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہوئے تھے۔

حادثے کے بعد نتاشا دانش کو موقع سے گرفتار کرکے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں طبی رپورٹ میں یہ بات سامنے آنے پر ان کے خلاف منشیات کا ایک الگ مقدمہ بھی درج کیا گیا کہ حادثے کے وقت وہ ’آئس‘ کے زیرِ اثر تھیں۔

اکتوبر 2024 میں فریقین کے درمیان صلح کے بعد نتاشا دانش کو قتل کے مقدمے میں بری کردیا گیا تھا۔

نتاشا کے خلاف منشیات کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی عدالت میں ہوئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمہ کے خلاف عائد الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد نتاشا دانش کو مقدمے سے بری کردیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد نتاشا کے وکیل ایڈووکیٹ فواد علی کچھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نتاشا دانش کے کیمیائی معائنے اور خون کے ٹیسٹ میں میتھ ایمفیٹامین یا کرسٹل میتھ (آئس) کے کوئی آثار نہیں ملے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے نتاشا کے سیمپلز میں ردوبدل کیا اور کیس کے تفتیشی افسر نے خون کے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی چھپا لی تھی۔

نتاشا دانش کے خلاف یہ مقدمہ پروہیبیشن (انفورسمنٹ آف حد) آرڈر 1979 کی دفعہ 11 کے تحت درج کیا گیا تھا، جو نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق ہے۔ مئی 2025 میں نتاشا کی اس کیس سے بریت کی درخواست مسترد ہوئی تھی۔

کارساز میں حادثے کے فوراً بعد نتاشا دانش کو گرفتار کرکے عمران عارف اور ان کی بیٹی آمنہ کی ہلاکت کے معاملے میں قتل کے مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

بعد میں سندھ پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کے وکیل کی درخواست پر کرائے گئے طبی معائنے میں نتاشا کے حادثے کے وقت کرسٹل میتھ کے زیرِ اثر ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر پولیس نے ان کے خلاف منشیات کے استعمال کا الگ مقدمہ درج کیا۔

6 ستمبر 2024 کو سیشن عدالت نے مقتولین کے اہل خانہ کی جانب سے نتاشا دانش کو ’’بغیر کسی دیت‘‘ معاف کیے جانے کے بعد قتل کے مقدمے میں ان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

تاہم اسی ماہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور سیشن عدالت نے منشیات کے مقدمے میں نتاشا دانش کی ضمانت کی درخواستیں الگ الگ مسترد کردی تھیں۔

اس وقت عدالت نے قرار دیا تھا کہ خون اور پیشاب کے نمونوں میں ردوبدل کیے جانے سے متعلق دفاع کا مؤقف درست نہیں۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے منشیات کیس میں ان کی ضمانت منظور کی۔

31 اکتوبر 2024 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے نتاشا دانش کو قتل کے مقدمے میں بھی بری کردیا تھا۔ ان کے وکیل کے مطابق عدالت نے فریقین کے درمیان طے پانے والے صلح نامے کو قبول کرتے ہوئے بریت کا فیصلہ سنایا تھا۔

Check Also

نجی شعبے کا سرمایہ متحرک کرنا پاکستان کی معاشی ترقی کیلیے ناگزیر ہے، وزیر خزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *