FPCCI کے زیرِ اہتمام اسکن ٹریٹمنٹس میں ایستھیٹک سیفٹی پر اہم سیمینار

کراچی (کامرس رپورٹر) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ویمن اسٹائل، بیوٹی اینڈ اسکن کیئر کے زیرِ اہتمام فیڈریشن ہاؤس، کلفٹن میں اسکن ٹریٹمنٹس میں ایستھیٹک سیفٹی کے عنوان سے ایک تاریخی سیمینار کا انعقاد کیا گیا سیمینار کا مقصد پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے بیوٹی اور ایستھیٹک سیکٹر میں حفاظتی معیارات کا تعین اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا تقریب میں طبی ماہرین، قانونی حکام، سیلون مالکان اور کارپوریٹ رہنماؤں نے شرکت کی

اہم تجاویز اور سفارشات ایف پی سی سی آئی کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی کی کنوینر زہرا زاہد نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ پاکستان میں بیوٹی انڈسٹری لاکھوں خواتین کو روزگار دے رہی ہے لیکن “حسنِ افزائش کے طریقہ کار کا تحفظ” اب وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے 4 نکاتی ایجنڈا پیش کیا پیشہ ورانہ حدود کا تعین کاسمیٹک سیلون کیئر کو جراحی یا سوئیوں کے ذریعے کیے جانے والے (Invasive) طبی طریقہ کار سے مکمل طور پر الگ کیا جائے

لائسنسنگ کا نظام صرف رجسٹرڈ کلینکس اور لائسنس یافتہ ڈاکٹرز ہی انجیکشنز، فلرز اور IV ڈرپس لگا سکیں آگاہی مہم عوام کو غیر منظم وائٹننگ ڈرپس اور غیر تربیت یافتہ افراد سے علاج کے خطرات سے آگاہ کیا جائے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ساتھ تعاون سیلونز کی مانیٹرنگ اور خلاف ورزی پر سخت ایکشن کے لیے SHCC کے ساتھ MOU کیا جائےسندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے CEO ڈاکٹر احسن قوی صدیقی نے بطور مہمانِ خصوصی کہا کہ غیر طبی ماحول میں انجیکشن لگانا جرم کے زمرے میں آتا ہے SHCC اس حوالے سے جلد سخت کارروائی کرے گا

ڈاکٹر تسنیم کوثر نے طبی خاکہ پیش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ غیر منظم IV وائٹننگ ڈرپس سے گردے جگر فیل اور حتیٰ کہ جان لیوا پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں قانونی ماہرین ایچ ایچ میران حیدر اور ایڈووکیٹ فخر امام نے بتایا کہ موجودہ صوبائی ہیلتھ کیئر قوانین کے تحت غیر مجاز شخص کی جانب سے کوئی بھی Invasive طریقہ کار مجرمانہ غفلت ہے اور اس پر 5 سال تک قید اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے ایڈووکیٹ احمد کمال اور اسد لاجسٹکس کے شفیق اچکزئی نے زوم کے ذریعے شرکت کی –

تقریب کو ایف پی سی سی آئی کی اعلیٰ قیادت سینئر نائب صدر ثاقب مگون اور میاں زاہد حسین کی بھرپور حمایت حاصل تھی دیگر مہمانوں میں اشفاق منگی ہیڈ آف کرنٹ افیئرز پی ٹی وی کراچی، ڈی ایس پی اسلم مغل، صلاح الدین مغل ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب کراچی، جنید احمد خان، سید سخاوت علی، کنوینر فرح جاوید، سعید احمد سعید اور افروز شامل تھے سینٹرل کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر تسنیم کوثر، ایچ ایچ میران حیدر، میمونہ خرم، شہلا خواجہ، گلِ آفرین، عذرا زاہد، تمکین اورنگزیب، حافظ مزمل ملک اور احمد رضوان چیمہ نے بھی سیمینار میں شرکت کی

اختتام پر متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر “ایستھیٹک پریکٹس ریگولیشن ایکٹ” نافذ کرے زہرہ زاہد نے کہا کہ پاکستانی بیوٹی انڈسٹری کو عوامی تحفظ کو مزید خطرے میں ڈالنے سے پہلے خود احتسابی کا نظام اپنانا ہوگا ہماری پہلی ترجیح عورت کی صحت اور حفاظت ہے، اورخوبصورتی بعد میں ہے

Check Also

نجی شعبے کا سرمایہ متحرک کرنا پاکستان کی معاشی ترقی کیلیے ناگزیر ہے، وزیر خزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *