اسلام آباد: حکومت ملک میں کنسٹرکشن کے فروغ کے لیے تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات کی تیاری کررہی ہے۔
وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت تعمیراتی شعبے میں اصلاحات سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری ہاؤسنگ نے مجوزہ اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
وفاقی وزیر نے اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر مزید مشاورت کی ہدایت کرتے ہوئے تعمیراتی شعبے کو مضبوط بنانے اور منصوبوں پر عمل درآمد بہتر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
احد چیمہ نے کہا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری کے فروغ کے لیے ایک ادارہ یا دو الگ ادارے بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ ایک ادارہ ریگولیٹری کردار ادا کرے، جبکہ دوسرا شعبے کے فروغ کے لیے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (کیپ) کے ساتھ نئے ادارے کے قیام کے حوالے سے جلد مشاورت مکمل کی جائے گی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ڈیفکٹ لائبلٹی پیریڈ کے دوران ٹھیکیداروں کی ضمانتی رقوم منافع بخش کھاتوں میں رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد ٹھیکیداروں کو اصل رقم بمعہ منافع واپس کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد تعمیراتی منصوبوں سے متعلق مالی معاملات کے لیے مجوزہ طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
منصوبوں کی نگرانی اور تنازعات کی روک تھام کے لیے ڈسپیوٹ اوائڈنس/ایڈجوڈیکیشن بورڈ (ڈیب) کے طریقہ کار پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
کیپ حکام نے 20 ارب روپے یا اس سے زائد لاگت کے منصوبوں پر ڈیب کا طریقہ کار لاگو کرنے کی تجویز دی، تاہم احد چیمہ نے ہدایت کی کہ 20 ارب روپے سے کم لاگت کے منصوبوں پر بھی یہی فارمولا اپلائی کیا جائے۔
احد چیمہ نے کہا کہ ڈیب کے طریقہ کار کے تحت منصوبوں کی لاگت کا تعین کرنے کے لیے مزید مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی شعبے کے آئندہ فریم ورک کی تیاری میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف کنسلٹنگ انجینئرز (فڈک) کے قواعد اور معیار سے رہنمائی لی جارہی ہے، تاکہ منصوبوں کے لیے بہتر طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بڑے منصوبوں کے لیے ڈیفکٹ لائبلٹی پیریڈ کی مدت 3 سال یا اس سے زائد مقرر کرنے پر پیپرا کام شروع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نقائص کی ذمہ داری کی مدت بڑھانے سے ٹھیکیدار معیاری کام کریں گے، جبکہ تین سالہ مدت کو مرحلہ وار چھوٹے منصوبوں تک بھی بڑھایا جائے گا۔
اجلاس میں وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن (ر)محمد محمود، ایم ڈی پیپرا، پلاننگ کمیشن اور کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے حکام نے شرکت کی۔
THE PUBLIC POST