کراچی:
کراچی میں حالیہ طوفانی بارشوں اور اربن فلڈنگ کے دوران شہری حکومت کے ناقص انتظامات کھل کر سامنے آ گئے۔
شہر میں ہلکی و تیز بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے تیسرے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران شہر کے بیشتر مقامات پانی میں ڈوبے نظر آئے جب کہ کئی جگہوں پر سڑکوں پر گہرے گڑھے اور ٹوٹ پھوٹ بھی نمایاں ہے۔
https://cdn.iframe.ly/api/iframe?url=https%3A%2F%2Fcdn.jwplayer.com%2Fplayers%2FwIrXuaKU-jBGrqoj9.html&key=73b4a3e6895a3640b0439dc45f68e4f8
قیوم آباد چورنگی پر مسلسل پانی جمع رہنے کے باوجود نکاسی آب کے لیے جدید مشینری استعمال کرنے کے بجائے جھاڑو اور پوچوں سے پانی نکالا جا رہا ہے۔ سینیٹری ورکرز کو اس کام کے عوض صرف 500 روپے یومیہ اجرت دی جا رہی ہے۔
https://cdn.iframe.ly/api/iframe?url=https%3A%2F%2Fcdn.jwplayer.com%2Fplayers%2FSJ7Gsz7d-jBGrqoj9.html&key=73b4a3e6895a3640b0439dc45f68e4f8
ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹری ورکرز نے بتایا کہ اس قلیل دہاڑی میں گزارہ کرنا مشکل ہے، حکام کو چاہیے کہ اجرت 500 روپے کے بجائے کم از کم ایک ہزار روپے مقرر کریں تاکہ وہ بہتر طریقے سے اپنا گزر بسر کر سکیں
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ جدید دور میں بھی نکاسی آب کے لیے پرانے اور ناکافی طریقے استعمال ہونا شہری حکومت کی ناکامی ہے، جس کے باعث کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی بدستور کھڑا ہے اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
https://cdn.iframe.ly/api/iframe?url=https%3A%2F%2Fcdn.jwplayer.com%2Fplayers%2FJX8fc3l7-jBGrqoj9.html&key=73b4a3e6895a3640b0439dc45f68e4f8