اسلام آباد(پبلک پوسٹ)وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے عوام کو ایک بار پھر ریلیف سے محروم کر دیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق پیٹرول پر 4 روپے 65 پیسے فی لیٹر لیوی بڑھائی گئی، جس کے بعد پیٹرول پر فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 79 روپے 62 پیسے سے بڑھا کر 84 روپے 27 پیسے کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ڈیزل پر لیوی میں 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا، جس کے بعد ڈیزل پر فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 75 روپے 41 پیسے سے بڑھا کر 76 روپے 21 پیسے کر دی گئی ہے۔
اگر پٹرولیم لیوی برقرار رکھی جاتی تو پیٹرول 4 روپے 65 پیسے فی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، لیوی برقرار رکھنے سے ڈیزل 80 پیسے فی لیٹر سستا ہو سکتا تھا۔
دستاویزات کے مطابق مٹی کے تیل پر بھی پیٹرولیم لیوی 1 روپے 41 پیسے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے، جس کے بعد مٹی کے تیل پر لیوی 18 روپے 95 پیسے سے بڑھا کر 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔
اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل پر بھی پیٹرولیم لیوی کی شرح 15 روپے 84 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، لیوی میں اضافے کے بعد پیٹرول پر مجموعی ٹیکسوں کی شرح بڑھ کر 105 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ٹیکس 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گیا ہے، جس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کا مارجن بھی شامل ہے۔ تاہم دونوں مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح بدستورصفر برقرار رکھی گئی ہے۔
THE PUBLIC POST