امریکا اور اسرائیل نے اچانک ایران پر حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد تہران اور دیگر کئی مقامات دھماکوں سے گونج اٹھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد اسرائیلی میزائل یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا پر گرے ہیں، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب 7میزائل گرے جبکہ تہران کے مضافات اور کئی مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں، افراتفری کی صورتِ حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای تہران میں موجود نہیں ہیں، انہیں محفوظ جگہ منتقل کردیا گیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران پر پیشگی حملے شروع کر دیے گئے ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع نے بھی اس حوالے سے تصدیق کی ہے۔
اسرائیلی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکا کے ساتھ مل کر اسرائیلی آپریشن جاری ہے، ایران پر آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنایا گیا تھا، ایران پر حملے کی تاریخ کا فیصلہ ہفتوں پہلے کیا گیا تھا۔
اس حوالے سے امریکی عہدیدار کا بھی یہی مؤقف سامنے آیا ہے جس کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے، ایران پر امریکی حملے فضا اور سمندر سے جاری ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں کے بعد ایران نے فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے اور ایران کا ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔
ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ان حملوں کے بعد عراق نے بھی فضائی حدود بند کردی ہے۔
ایران پر حملے کے فوری بعد مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کرنے کے بعد اسرائیل بھر میں اسکول بند کر دیے گئے۔
اسرائیلی حکام نے اسرائیلی فضائی حدود کو بھی بند کر دیا ہے اور اسرائیلی شہریوں کو ایئر پورٹ کی جانب نہ آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
موجودہ صورتِ حال میں قطر میں امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کو شیلٹر میں جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
امریکی سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قطر میں امریکی شہری اگلے حکم تک شیلٹر میں رہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی نہ کرے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ایران کے مؤقف سے مطمئن نہیں تھے۔
THE PUBLIC POST