ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا دورہ انتہائی مفید رہا، دورۂ اسلام آباد میں حکام کے ساتھ مثبت مشاورت ہوئی۔
روس پہنچنے پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اور ماسکو کے درمیان علاقائی اور عالمی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے مقصد سے روس آیا ہوں، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے آج ملاقات ہو گی۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ روسی صدر سے ملاقات میں جنگ کی پیش رفت اور موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لینے کا اچھا موقع ہو گا، یقین ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت اور ہم آہنگی خاص اہمیت کی حامل ہو گی۔
پاکستان و عمان کے دوروں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دورۂ اسلام آباد میں حکام نے ماضی کے واقعات اور ان مخصوص حالات کا جائزہ لیا جن کے تحت ایران امریکا مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ دورۂ عمان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز پر بات چیت ہوئی، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں، اس لیے باہمی مشاورت ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر اس وقت جب اس گزر گاہ سے محفوظ آمد و رفت ایک اہم عالمی مسئلہ بن چکی ہے، آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہونے کے ناتے باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے بات چیت کرنا فطری ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2 ساحلی ممالک کے ناتے ہمیں ہر ممکن اقدام میں ہم آہنگی برقرار رکھنی چاہیے، دونوں کے مفادات اسی میں ہیں، ایران اور عمان کے درمیان اعلیٰ سطح کا اتفاق پایا جاتا ہے، دونوں ممالک متفق ہیں کہ ماہرین کی سطح پر بھی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
THE PUBLIC POST