ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد گوادر بندرگاہ میں تجارتی سرگرمیوں میں محدود اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران گوادر پورٹ پر صرف 3 کارگو جہاز آئے اور تقریباً 62 ہزار ٹن کارگو ہینڈل کیا گیا، جو زیادہ تر ڈی اے پی اور ایم او پی کھاد پر مشتمل تھا، جبکہ کنٹینر ٹریفک مکمل طور پر صفر رہی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں 21 اپریل 2026 تک 4 جہاز پورٹ پر لنگر انداز ہوئے اور تقریباً 23 ہزار 953 ٹن کارگو ہینڈل کیا گیا، جس میں کچھ حد تک تنوع دیکھنے میں آیا اور جنرل کارگو و ٹرانس شپمنٹ بھی شامل ہوئی۔
ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی نے سمندری راستوں، انشورنس اخراجات اور سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث بڑے تجارتی جہاز محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی بہتر ہونے اور بین الاقوامی اعتماد بحال ہونے کی صورت میں گوادر بندرگاہ کی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ممکن ہے اور یہ مستقبل میں علاقائی تجارت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
THE PUBLIC POST