اسرائیل اور امریکا کی جانب سے مشترکہ حملے کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی حملے جاری ہیں تاہم اسرائیل کے تازہ ترین حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای شہید ہوگئے جس کی ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کر دی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق شہادت کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اپنے دفتر میں موجود تھے۔ ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ملک میں سات روز کے لیے چھٹی کا بھی اعلان کیا گیا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت پر عراق میں مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئی ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایران کے شہر مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، یہ پرچم روایتی مذہبی عزاء یا سوگ کے مواقع پر لہرایا جاتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطاق آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر مشہد میں سوگ کی فضاء ہے، آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مشہد میں عوام بڑی تعداد میں جمع ہوگئے۔
حرم امام رضا سے ویڈیو جاری کر دی گئی جس میں کئی افراد غم سے نڈھال ہو کر زمین پر بیٹھے نظر آئے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی، ایران کی تاریخ کا سب سے تباہ کن اور جارحانہ آپریشن شروع ہوگا، حملہ چند لمحموں میں شروع ہو جائے گا۔
دوسری جانب، ایرانی ریاستی ٹی وی نے علی شمخانی اور پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر پاکپور کی شہادت کی بھی تصدیق کر دی۔
بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے پاسدارانِ انقلاب کی کمان سنبھال لی۔ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا گیا۔
اس سے قبل ایران کے سرکاری میڈیا کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ حملے میں سپریم لیڈر کی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ہوئے۔
عرب میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایران نے دوبارہ کارروائی کرتے ہوئے دبئی انٹرنیشنل کو نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد ایئرپورٹ کے ٹرمینل تھری میں دھواں بھر گیا اور فضا میں دھویں کے بادل چھا گئے۔ حکام نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے مسافروں کو ٹرمینل تھری سے نکالنا شروع کر دیا۔
دبئی میڈیا کے مطابق اس حملے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر بھی حملہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں واقع اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 21 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق متعدد عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم نے ایک حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت متعدد رہنماؤں کو شہید کرنے کا دعوی کیا ہے اور کہا کہ جس خفیہ کمپاؤنڈ میں سپریم لیڈر موجود تھے اسے مکمل طور پر بمباری کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل کے مطابق انہوں نے امریکی حکام کو ایرانی سپریم لیڈر کی میت کی تصویر بھی دکھائی ہے۔
اس کے بعد امریکی صدر نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ اب نہیں رہے، ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنا ملک حاصل کر لیں۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی کشیدہ صورتحال کے باعث اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس شروع ہو گیا ہے۔
اجلاس میں روس اور چین سمیت متعدد ممالک نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی، جبکہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسے خطے کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے آیت اللہ خامنہ کی شہادت کے حوالے سے کہا کہ فی الحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب ایران نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے حوالے سے امریکی اور اسرائیلی دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ گزشتہ روز اسرائیل اور امریکا نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے۔ حملے میں امریکی فضائیہ نے حصہ لیا۔ حملے کے بعد تہران میں 3 شدید دھماکوں کی آواز سنی گئی۔
ایران کے بوشہر پر بھی اسرائیلی اور امریکی حملوں کی خبریں ہیں جبکہ حملوں کے بعد ایرانی نیوی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔
علاوہ ازیں تقریباً 20 امریکی اور اسرائیلی فائٹر جیٹس شامی علاقے دارا کے اوپر پرواز کرتے ہوئے ایران کی جانب جارہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج نے ایران کیخلاف وسیع آپریشن ’ایپک فیوری‘ کا آغاز کردیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران دہائیوں سے امریکی مردہ باد کے نعرے لگاتا رہا اور خطے میں امریکی مفادات پر حملے کا ذمہ دار بھی ایران ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایران کی بحریہ کو مکمل تباہ کرنے جارہے ہیں۔ اس آپریشن میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی جاسکتی ہیں۔ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے اور ایرانی میزائل پروگرام مٹا دیں گے۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب اگر ہتھیار ڈال دے تو مکمل استثنٰی ملے گا۔ اگر ایسا نہ کیا تو یقینی موت کا سامنا ہوگا۔ ایران برسوں سے امریکی اہداف پر حملے کرتا رہا۔ امریکی کسی انتہا پسند حکومت کو پروان نہیں چڑھنے دے گا۔
اسرائیلی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس حملوں کی منصوبہ بندی مہینوں پہلے سے جاری تھی اور تاریخ کا بھی فیصلہ ہفتوں پہلے کیا گیا۔ یہ حملے امریکا کے ساتھ مِل کر کیے گئے ہیں۔ یہ حملے پیشگی حملے ہیں جس کا مقصد ایران کی طرف سے فوری خطرے کو کم کیا جاسکے۔ چار روز تک شدید اور مربوط حملے کیے جائیں گے جس کے بعد تہران کی صورتحال تبدیل ہوجائیگی۔
روسی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ فضائی حملہ اسرائیل کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں کئی فوجی کمانڈر مارے گئے ہیں۔ حملے میں انٹیلی جنس ہیدکوارٹر کو بھی نشانہ بنایاگیا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا میں کئی میزائل گرائے گئے۔ اس کے علاوہ قوم، خرام آباد، اصفہان میں بھی حملے کیے گئے۔ دیگر رپورٹس کے مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ابھی تہران میں نہیں ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ جبکہ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کردی ہے اور عراق نے بھی ایئر ٹریفک معطل کردی ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملوں کی پہلی لہر ہے جبکہ دوسری لہر متوقع ہے۔ حملوں میں کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اہداف میں وزیر اطلاعات اور ایوان صدر بھی شامل ہیں۔ اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔ مزید برآں حملوں میں ایرانی صدر کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ایران میں حملے کے بعد اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت اسکول بند اور شہریوں کو محفوظ مقامات میں رہنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایک طاقتور ترین حملے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اسرائیل نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کا انجام اُس کے ہاتھ میں نہیں۔
ایران کی جانب سے مختلف عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنیا جا رہا ہے۔ ایران نے بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران نے یواےای میں الدفرا ائیربیس، بحرین میں بحری ائیربیس کو نشانہ بنانےکی تصدیق کی ہے۔
یو اےای کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ یو اے ای نے متعدد ایرانی میزائلوں کو روک دیا۔
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ یہ حملہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، متحدہ عرب امارات اس جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں بھی دھماکے سنے گئے۔ دبئی کے علاقے مارینا میں بھی دھماکا سناگیا۔
سعودی عرب نے خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کر دی ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے بحرین، کویت،متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن پر ایرانی حملے افسوسناک ہیں ایران نے خلیجی ممالک پر حملہ کرکے ان کی خود مختاری پر حملہ کیا ہے ایران نے خلیجی ممالک پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے اور سعودی عرب عرب ریاستوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی مذمت کرے اور خطے کے امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے پر ایران خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
THE PUBLIC POST