سابق میئر کراچی Waseem Akhtar نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی کے وسائل اور زمینوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ شہر کے اہم اداروں اور محکموں پر سیاسی قبضہ قائم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی زمینوں پر قبضے کی کوششوں کی ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی پر قابض ہو چکی ہے اور شہر کے مختلف محکموں اور اداروں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل کو بھی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کراچی کو بیچا جا رہا ہے اور اس صورتحال کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما Farooq Sattar نے ہل پارک کے اطراف مبینہ تعمیراتی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہل پارک کی پہاڑیوں کو کاٹ کر پلاٹ نکالے جا رہے ہیں، جو شہر کے ماحول اور قدرتی حسن کے لیے نقصان دہ ہے۔
فاروق ستار نے سوال اٹھایا کہ ڈائریکٹر لینڈ نے کس قانون اور ضابطے کے تحت ہل پارک میں پلاٹوں کے لیے این او سی جاری کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر میئر کراچی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مذکورہ کام رکوا دیا گیا ہے تو پھر یہ بھی واضح کیا جائے کہ ابتدائی اجازت کس نے دی اور متعلقہ منظوری کیسے حاصل کی گئی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کی سرکاری زمینوں، پارکس اور عوامی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی غیر قانونی تعمیرات یا زمینوں کی تقسیم کے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
THE PUBLIC POST