کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن حکام نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ریزیڈنس اور ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق بورڈنگ کے دوران ایئرلائن عملے کو مسافر کے ٹکٹ کی تفصیلات سسٹم میں نہ مل سکیں، جس پر اسے مزید جانچ پڑتال کے لیے روک لیا گیا۔ تفصیلی تحقیقات کے دوران مسافر کی جانب سے پیش کیا گیا متحدہ عرب امارات کا ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے۔ مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’ملک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، ضلع خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کے لیے اس نے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ یہ رقم مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی گئی۔ مسافر کا کہنا تھا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویزا فراڈ، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی بیرونِ ملک ملازمت کے دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
THE PUBLIC POST