کراچی (شوبز رپورٹر) “کنواری ماں” نے یہ ثابت کر دیا کہ تھیٹر صرف تفریح کا نام نہیں، بلکہ یہ معاشرے کا آئینہ بھی ہے، ناصر خان جس طرح ایک حساس اور نظر انداز کیے جانے والے موضوع کو اسٹیج پر لاۓ وہ قابلِ تحسین ہے ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصیEase Gate ایزگیٹ بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کے روح رواں سید ریحان احمد نے کیا –
انہوں نے کہا کہ اس کھیل نے ناظرین کو سوچنے پر مجبور کیا کہ لاوارث بچوں کی محرومی صرف قانونی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اس موقع پر یونس میمن، شعیب ہوکلا، عامر ہوکلا، حمید راٹھور، زبیر ہاشمی، حسین سچوانی، عامر ریمبو، شمیرراہی بھی موجود تھے پروڈیوسر رائٹر و ڈائریکٹر ناصر خان کا اصلاحی کھیل کنواری ماں آرٹس کونسل اوپن ائیر تھیٹر میں بروز اتوار اور پیر پیش کیا گیا ناصر خان بطور پروڈیوسر رائٹر اور ڈائریکٹر اس کھیل سے قبل بھی متعدد کامیاب کھیل پیش کرچکے ہیں اور اب وہ دوبارہ ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ واپس آئیں بطور اداکار وہ دیگر ڈراموں میں کام کرتے رہتے ہیں-

ناصر خان کی اصلاحی پیشکش “کنواری ماں” نے ابتداء سے آخر تک ڈرامہ شائقین کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا کھیل کے اختتام پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور کئی فیملیز کی آنکھیں نم تھیں یہی کسی ڈرامے کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ لوگوں کے دل چھو لے، تکنیکی لحاظ سے “کنواری ماں” سادگی کی مثال رہا اور مکالموں کی برجستگی نے سارا کھیل باندھے رکھا شانزے اور ارما احمد، شہباز صنم، ذوہب صنم، ندیم، درمیان جذباتی سینز خاص طور پر دل کو چھو لینے والے تھے جبکہ کمال ادریس اور شکیل شاہ نے سنجیدہ موضوع میں بھی ہلکا پھلکا مزاح شامل کر کے بیلنس قائم رکھا، ناصر خان اور ان کی ٹیم نے یہ دکھا دیا کہ اگر نیت صاف ہو اور کہانی میں جان ہو، تو نہ چمکدار سیٹ چاہیے نہ ہی گلمیر کی ضرورت ہے “کنواری ماں” یقیناً اس سال کے بہترین تھیٹر پروڈکشنز میں شمار ہوگی،
ناصر خان کے ساتھ حمید راٹھور، شعیب ہوکلا، زبیر ہاشمی، عامر ہوکلا،یونس میمن، حسین سچوانی شانہ بشانہ موجود رہے انہی لوگوں کے بہترین ٹیم ورک نے کھیل کو کامیابی سے ہمکنار کیا کسی بھی کھیل کی کامیابی میں سب اہم بات اسکا اسکرپٹ اور پھر ڈائریکٹر کی کھیل پر گرفت اور فنکاروں کا اپنے اپنے کرداروں سے انصاف کرنا ڈرامے کی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے کاسٹ میں شانزے نے بہترین پرفارمنس دی جس کی جتنی تعریف کی جاۓ وہ کم ہے
ارما احمد کی کردار نگاری لاجواب رہی وہ اپنے کردار میں کامیاب رہی، کمال ادریس اپنے مزاحیہ کردار میں اچھے رہے شکیل شاہ اپنے ہر کردار میں حقیقت کا رنگ بھر دیا شہباز صنم، ذوہب صنم، طلحہ بھوجانی، عبداللہ لالہ، طاہرہ خان، فائزہ ملک، ندیم، حسین راٹھور اپنے اپنے کردار میں اچھے رہے مجموعی طورپر “کنواری ماں” ایک بہترین کھیل ثابت ہوا جس کا کریڈٹ ناصر خان سمیت پوری ٹیم کو جاتا ہے
THE PUBLIC POST