فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کردیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائےگا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت 276 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق فیڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائےگا۔
کورکمانڈرز کانفرنس کے مطابق خطے میں پائیدار امن و استحکام افغان طالبان کے زیر تسلط زمین پربھارتی پراکسیوں کی روک تھام سے مشروط ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی عوام کے تحفظ اور دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا گیا ، آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی، فورم نے مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ آبادیاتی تبدیلی کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے اس کی بھی مذمت کی۔
کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا گیا، شرکا کا کہنا تھا کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دیا جائے۔
کور کمانڈرز کانفرنس کے مطابق جائز پانی کے حصے کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے قطعا گریز نہیں کریں گے، شرکا کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی 24 اپریل 2025 کی ہدایت اس بارے میں مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں علاقائی استحکام کو فروغ دینے اور کشیدگی میں کمی پر پاکستان کے تعمیری کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
فورم کے مطابق معرکہ حق میں عبرتناک شکست کے بعد دُشمن چاہتا ہے کسی طرح ہائبرڈ وار فیئر اور جھوٹے بیانیوں سے بے امنی پھیلائی جائے، بیرونی مدد سے انتشار پھیلانے والی ہر ایسی کوشش کو سختی سے کچلا جائے گا۔
شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلح افواج افغان طالبان کے زیر قبضہ علاقوں سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھیں گی، یہ لازم ہےکہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں بہترین گورننس کا نظام مہیا کیا جائے۔
کور کمانڈرز کانفرنس کے مطابق ایسا مضبوط انتظامی ڈھانچہ ہو جو عوامی خدمت اور فلاح و بہبود پر مرکوز ہو، ایسا مضبوط انتظامی ڈھانچہ ہو جو مذموم سیاسی پشت پناہی میں پنپنے والے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑے۔
THE PUBLIC POST