کراچی؛ عدالتی حکم پر دہلی گورنمنٹ اسکول سیل،بچے تالا توڑ کر عمارت میں داخل

کراچی: عدالتی حکم پر گورنمنٹ دہلی اسکول کو سیل کیے جانے کے خلاف سیکڑوں طلبہ، اساتذہ اور والدین نے اسکول کے باہر احتجاج کیا جبکہ بچے اسکول کا تالا توڑ کر عمارت میں داخل ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق اسکول کے باہر کم عمر طلبہ و طالبات نے احتجاج کیا جبکہ اساتذہ بھی ان کے ہمراہ موجود رہے۔ طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور سڑک پر اسمبلی بھی کی۔

طلبہ اور اساتذہ کا کہنا تھا کہ اگر اسکول نہ کھولا گیا تو وہ سڑک پر کلاسز لگائیں گے۔

ڈی او سینٹرل اسکول ایجوکیشن نواز علی کے مطابق ہم اپیل پر عدالت جا رہے ہیں، امید ہے عدالت ہمیں سنے گی اور تعاون کرے گی، ہم اسکول کو بچانے کے لیے عدالت میں اپیل کر رہے ہیں۔

پرنسپل اسکول علی خان میر جٹ کا کہنا تھا کہ ہم بچوں کو کہیں منتقل نہیں کر سکتے، اطراف میں کوئی اتنا بڑا اسکول موجود نہیں جہاں اتنی بڑی تعداد میں بچے آسکیں۔ اسکول میں 2800 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، 2100 طالبات اور 700 طلباء زیر تعلیم ہیں۔

استاذہ کے مطابق وزیر تعلیم سردار شاہ سے گزارش ہے کہ اسکول کی عمارت خرید کر ہمارے حوالے کی جائے، اسکول کی ایک تاریخ ہے 1965 سے 1996 تک یہی اسکول میٹرک سائنس میں پوزیشن لیتا رہا ہے، اس سال بھی میٹرک میں اسکول کا نتیجہ 93 فیصد تھا۔

ڈائریکٹر اسکولز کراچی ارشد بیگ کے مطابق اسکول کی عمارت سال 2007 میں بھی عدالتی حکم پر سیل ہوگئی تھی، 2007 میں اس وقت کے سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا اور طلبہ سیل کھول کر اندر داخل ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سے اب تک عدالت میں کیس کو فالو کر رہے تھے، ہم مسلسل متعلقہ فریق کو اسکول کا کرایہ بھی ادا کر رہے تھے، جون 2026 تک کا کرایہ ہم نے متعلقہ فریق کو ادا کیا ہے۔

ارشد بیگ نے کہا کہ ریونیو ڈپارٹمنٹ اور کمشنر کراچی سے استدعا ہے کہ عمارت کی خریداری کے سلسلے کو تیز کریں، بچوں کو دیگر اسکول میں منتقل کرنے کے لیے بھی اقدام کر رہے ہیں لیکن بچے جانے کو تیار نہیں۔

بعدازاں، ایم کیو ایم کے رہنما عادل عسکری دہلی اسکول پہنچے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا احترام کرتے ہیں لیکن ان بچوں کے بھی ساتھ ہیں، کمشنر سے پوچھیں گے کہ جب محکمہ تعلیم نے اسکول کی عمارت خریدنے کے لیے خط لکھا تھا تو اس پر کام کیوں نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو اسمبلی کے فلور پر بھی اٹھائیں گے، جس فریق نے مقدمہ کیا ہے اس سے کہوں گا ان بچوں کے مستقبل کا بھی سوچیں، یہ 2800 بچے کہاں جائیں۔

ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ وزیر تعلیم نے مجھے یقین دلایا ہے اس معاملے کو ٹیک اَپ کر رہے ہیں، یہ بھی پوچھیں گے کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے وکیل کیا کرتے رہے۔

Check Also

عمران خان اسپتال منتقلی؛ توہینِ عدالت پر فوری سماعت کی دوسری درخواست بھی مسترد

اسلام آباد: عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق توہینِ عدالت پر فوری سماعت کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *