سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ایف بی آر حکام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں۔
قائمہ کمیٹی سینیٹ برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر سلیم سیف اللہ کی زیر صدارت ہوا، جس میں ایف بی آر حکام کے نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا۔ کمیٹی نے ضبط شدہ سامان کے استعمال پر سوالات اٹھائے۔
ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سگریٹ چوری کے حوالے سے انکوائری رپورٹ جمع کرادی گئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں سب کمیٹی کی رپورٹ پر بات کریں گے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایف بی آر حکام نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ بتایا گیا کہ نئی گاڑیاں نہیں خریدی گئیں، اس وجہ سے ضبط شدہ گاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ جب ایک ہزار گاڑیاں نئی خریدی گئی ہیں تو پھر نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں استعمال کی جارہی ہیں؟
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ رولز کے تحت ضبط شدہ گاڑیاں حکومتی ملکیت ہوتی ہیں۔ کچھ گاڑیاں کٹ اینڈ ویلڈ ہوتی ہیں جو نیلام نہیں کی جاسکتیں۔
چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ جب نئی گاڑیاں آگئی ہیں تو نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں استعمال ہورہی ہیں؟
سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں تو نیلام کرنی چاہییں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ضبط شدہ سامان کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کل کو سونا پکڑا جائے تو کیا اسے بھی استعمال کرنا شروع کردیں گے؟
THE PUBLIC POST