ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی فوج کی ایک جدید بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سرکاری خبر رساں ادارے سپاہ نیوز کے مطابق زیرِ آب امریکی ڈرون آبدوز کو ایک پیچیدہ خفیہ کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز کے داخلی راستے سے قبضے میں لیا گیا۔
ایران نے پکڑی گئی آبدوز کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
ایران کے مطابق قبضے میں لی گئی ڈرون آبدوز جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اسے ڈائیو ایل ڈی کا نام دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فضائی دفاع نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک ایم کیو 9 ریپر ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
امریکی فوج کی تصدیق
عرب میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کی ایک خودکار ڈرون آبدوز ایک روز قبل علاقائی پانیوں کا جائزہ لیتے ہوئے خراب ہو گئی تھی تاہم امریکی فوج نے یہ نہیں بتایا کہ یہی آبدوز ایران نے قبضے میں لی ہے یا نہیں۔
امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان کے مطابق خراب ہونے والی آبدوز پرانی تھی، جس میں حساس معلومات جمع کرنے کی صلاحیت یا خفیہ ریڈار جیسے آلات موجود نہیں تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا سمندری نگرانی، انٹیلیجنس معلومات کے حصول اور مخالف ممالک کی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے بغیر پائلٹ بحری نظام پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈائیو ایل ڈی تقریباً 10 دن تک بغیر واپس آئے کام کر سکتی ہے اور 6000 میٹر تک گہرائی میں جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کے ایک یونٹ کی قیمت تقریباً 2.5 ملین ڈالرز بتائی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج کی مرکزی کمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے جواب میں امریکی فوج نے 5 ایرانی خام تیل بردار ٹینکرز تباہ کیے ہیں۔
امریکی دعوے کے مطابق ایران نے 2 روز کے دوران جنگی جہاز پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کی 2 کوششیں کی تھیں۔
امریکا ایران جنگ کا پسِ منظر
رواں سال 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا نے تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں پر مشترکہ حملے کیے تھے جن کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر دی۔
18 جون کو امریکا اور ایران نے خطے میں جنگ ختم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
اس کے تحت 60 دن کے اندر مذاکرات کے ذریعے حتمی معاہدے کی کوشش کی جانی تھی تاہم 17 اگست کو یہ مدت ختم ہونے کے باوجود مذاکرات کا مستقبل واضح نہیں ہو سکا اور حالیہ کشیدگی نے صورتِ حال مزید پیچیدہ کر دی ہے۔
THE PUBLIC POST