رپورٹ: عمران خان
کراچی: ایف بی آر کے اندرونی حلقوں میں بعض اعلیٰ افسران کی تقرریوں، ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تعیناتیوں، کارکردگی جانچنے کے نظام اور بڑے مالی فیصلوں کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ادارے میں بعض افسران کو غیر معمولی انتظامی تحفظ اور مسلسل اہم عہدے ملنے کے باعث میرٹ اور احتساب کا نظام متاثر ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر میں ایک ایسا انتظامی کلچر تشکیل پاتا جا رہا ہے جس میں بعض ’’پسندیدہ‘‘ افسران ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اہم عہدوں پر واپس آتے ہیں، جبکہ بعض افسران کو معمول کے مقابلے میں تیزی سے اعلیٰ گریڈ اور ذمہ داریاں ملنے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر حامد عتیق کو ریٹائرمنٹ سے قبل BS-22 دیے جانے کے بعد دوبارہ کنٹریکٹ پر اہم ذمہ داری ملنے کا معاملہ ادارے کے اندر زیر بحث رہا ہے۔ اسی طرح شاد محمد کی ریٹائرمنٹ کے کئی سال بعد کنٹریکٹ پر واپسی کو بھی بعض افسران میرٹ اور ضرورت کے معیار پر پرکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دستیاب سرکاری ریکارڈ میں محمد اقبال کو ایف بی آر کے ممبر ایڈمن اینڈ ایچ آر کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ ایف بی آر کی حالیہ سرگرمیوں میں متعدد اعلیٰ افسران کی خدمات اور اعزازات کا بھی ذکر موجود ہے۔
کارکردگی جانچنے کا نظام بھی سوالیہ نشان
ذرائع کے مطابق ایف بی آر میں افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے استعمال ہونے والے Reward Rating System کے بارے میں بھی اندرونی سطح پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بعض افسران کے اسکور اور انہیں ملنے والے انعامات یا مراعات میں مبینہ تضاد موجود ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی افسر کی کارکردگی کا اسکور انتہائی کم ہو لیکن اسے اس کے باوجود مکمل یا غیر معمولی ریٹنگ دے کر مالی یا انتظامی فائدہ پہنچایا جائے تو پورا نظام ہی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ ریکارڈ اور اسکورنگ شیٹس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ریفنڈز اور ٹیکس مراعات پر بھی سوالات
ایف بی آر کے بعض اندرونی ذرائع نے چیف کمشنر پشاور محمد تقی قریشی سے متعلق بڑے مالی فیصلوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض صنعتوں کو جاری کیے گئے کنزمپشن سرٹیفکیٹس اور بڑے ریفنڈز کی تفصیلات کی ازسرنو جانچ ہونی چاہیے۔
محمد تقی قریشی کی چیف کمشنر پشاور کے طور پر تعیناتی سرکاری ایف بی آر ریکارڈ میں موجود ہے۔ تاہم ان کے حوالے سے گردش کرنے والے بڑے مالی اعدادوشمار اور ان کی قانونی حیثیت کی آزادانہ دستاویزی تصدیق اس خبر کی تیاری تک نہیں ہوسکی۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر میں اصلاحات کا اصل امتحان یہ ہے کہ بڑے ریفنڈز، ٹیکس مراعات، افسران کی ترقیاں اور اہم پوسٹنگز کسی شخصیت کی قربت کے بجائے واضح، تحریری اور قابلِ آڈٹ معیار کے تحت ہوں۔
’’ریٹائرمنٹ‘‘ کے بعد بھی اہم عہدے؟
اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر میں بعض ریٹائرڈ افسران کی دوبارہ تعیناتی کے معاملات کی جامع فہرست تیار کرکے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ آیا ہر تعیناتی واقعی ادارے کی ضرورت کے تحت ہوئی یا اس کے پیچھے کسی مخصوص افسر کی انتظامی حمایت موجود تھی۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض افسران طویل عرصے سے حساس عہدوں پر موجود ہیں، جس کے باعث ادارے کے اندر پوسٹنگ، ٹرانسفر اور احتساب کے نظام کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھتے ہیں۔
اصل سوال: اصلاحات کس کے لیے؟
ایف بی آر کے اندرونی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ اگر ادارے میں واقعی اصلاحات جاری ہیں تو پھر تقرریاں کھلے میرٹ پر، ریٹنگ آزادانہ، ریفنڈز قابلِ آڈٹ اور ریٹائرمنٹ کا مطلب حقیقی ریٹائرمنٹ کیوں نہ ہو؟
ذرائع کے مطابق ایف بی آر میں اصلاحات کا حقیقی نتیجہ اسی وقت سامنے آئے گا جب ہر افسر کی کارکردگی، ترقی، تعیناتی اور مالی فیصلے ایک ایسے نظام کے تابع ہوں جسے کسی بھی وقت آزادانہ طور پر جانچا جا سکے۔
THE PUBLIC POST