اسلام آباد: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بیماریوں سے لڑنے والی خواتین کی خاموش جدوجہد سے متعلق ایک پیغام جاری کیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کی خواتین میں کینسر سے متعلق متنازع گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہے۔
مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ دل توڑ دینے والی بات ہے کہ ایک عورت اور بیوی بند دروازوں کے پیچھے کن خاموش جنگوں سے گزرتی ہے۔ اسے اس وقت بھی ہمت جمع کرنا پڑتی ہے جب وہ اندر سے ٹوٹ رہی ہوتی ہے۔ کچھ جنگیں خاموشی سے لڑی جاتی ہیں اور کچھ زخم دکھائی نہیں دیتے۔
مریم نواز نے اپنی پوسٹ میں کیپٹن صفدر کا نام نہیں لیا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کیپٹن (ر) صفدر کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں وہ ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خواتین میں کینسر کے مرض پر گفتگو کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے کا حوالہ بھی دیا۔
وائرل ویڈیو میں کیپٹن صفدر کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ “میں کہتا ہوں کہ اگر جسم تمہارا ہے تو مرضی بھی تمہاری ہے۔ پھر جب وہ بیمار ہوتی ہیں اور انہیں کینسر ہو جاتا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ اس حصے کا کینسر ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اس حصے کا کینسر ہے۔ اگر جسم تمہارا ہے تو اس کا علاج بھی خود کرو۔ جسم تو اللہ کا دیا ہوا ہے نا؟ پھر اس وقت کہتے ہیں کہ مولوی صاحب میرے لیے دعا کریں، پانی پر دم کردیں۔”
سوشل میڈیا صارفین نے ان کے بیان کو کینسر کے مریضوں کے لیے غیر حساس اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔
ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ کیپٹن صفدر کی ساس بیگم کلثوم نواز بھی طویل عرصے تک کینسر کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد ستمبر 2018 میں انتقال کر گئی تھیں۔
مریم نواز کی پوسٹ کے بعد متعدد سوشل میڈیا صارفین نے کینسر سے متاثرہ خواتین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مؤقف کی حمایت کی۔
صحافی اجمل جامی نے لکھا کہ ان کی والدہ بھی کینسر کی مریضہ رہی ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ ان کے خاندان نے وہ مشکل وقت کیسے گزارا۔ ان کا زندہ بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے کیپٹن صفدر کے بیان کو انتہائی شرمناک اور افسوس ناک قرار دیا اور مریم نواز کا شکریہ ادا کیا۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی مریم نواز کے واضح مؤقف کو سراہتے ہوئے ان کی حمایت کی۔
صحافی منیب فاروق نے لکھا کہ اس قدر شرمناک اور خواتین مخالف سوچ کے خلاف کھڑا ہونے کے لیے بہت ہمت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے مریم نواز اور پاکستان کی بہادر خواتین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
سینئر صحافی مبشر زیدی نے بھی مریم نواز اور پاکستان کی خواتین کی حمایت میں پیغام جاری کیا۔
صحافی بینظیر شاہ نے لکھا کہ عوامی سطح پر اس طرح واضح مؤقف اختیار کرنے کے لیے حقیقی حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔
صحافی فریحہ ادریس نے بھی مریم نواز کے مؤقف کو سراہتے ہوئے لکھا کہ کسی بات کو اس کے اصل نام سے پکارنا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً جب آپ عوام کی نظروں میں ہوں۔
اینکر پرسن مونا عالم نے بھی مریم نواز کی حمایت کرتے ہوئے کینسر سے متاثرہ خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی کینسر کے متاثرین میں شامل ہیں اور حال ہی میں اپنی والدہ کو بریسٹ کینسر کے باعث کھو چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کینسر صرف ایک انسان کی جان نہیں لیتا بلکہ اس خاتون کے پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے۔
THE PUBLIC POST