بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو غیر قانونی مواد کی نشاندہی کے بعد 3 گھنٹوں کے اندر اسے ہٹانا ہوگا، اس سے قبل یہ مدت 36 گھنٹے تھی۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اس فیصلے سے میٹا، یوٹیوب اور ایکس جیسے عالمی پلیٹ فارمز کے لیے قواعد پر عمل درآمد مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
یہ تبدیلیاں بھارت کے 2021 کے آئی ٹی قوانین میں ترمیم کے ذریعے کی گئی ہیں۔ یہ قوانین پہلے ہی مودی کی حکومت اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بن چکے ہیں۔
ترمیم شدہ قانون میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کے حوالے سے بھی نرمی کی گئی ہے۔ نئے قواعد کا اطلاق 20 فروری سے ہوگا۔
غیر قانونی مواد ہٹانے کی مدت میں کمی بھارت کی جانب سے آن لائن اظہارِ رائے پر کنٹرول کی کوششوں میں تازہ اضافہ سمجھی جا رہی ہے۔ اس پالیسی پر ڈیجیٹل حقوق کے حامی حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی ہے۔
بھارت کے آئی ٹی قوانین حکومت کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ قومی سلامتی، امنِ عامہ اور جنسی جرائم سمیت مختلف قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیے گئے مواد کو ہٹانے کا حکم دے سکے۔
پلیٹ فارمز کی شفافیت سے متعلق رپورٹس کے مطابق بھارت نے حالیہ برسوں میں ہزاروں مرتبہ سوشل میڈیا سے مواد ہٹانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
THE PUBLIC POST