پولیس تشدد سے دل برداشتہ شخص پراسرار طور پر جھلس گیا، اہلکار اسپتال چھوڑ کر غائب

راولپنڈی:پولیس تشدد سے دل برداشتہ شخص پراسرار طور پر جھلس گیا ، جسے اہل کار مبینہ طور پر اسپتال چھوڑ کر غائب ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ ایئرپورٹ کی پولیس چوکی حمیداں پر انسانیت سوز واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر پولیس تشدد و بدسلوکی سے دل برداشتہ شخص پراسرار طور آگ سے جھلس گیا جب کہ شدید زخمی شخص کو پولیس اہلکار پمز اسپتال چھوڑ کر غائب ہوگئے ۔

متاثرہ شخص کے بھائی نے پولیس ایمرجنسی ون فائیو پر کال کردی ۔

اطلاعات کے مطابق ترنول کے رہائشی محمد عامر نے ون فائیو پر بتایاکہ 45 سالہ بھائی امجد محمود پراپرٹی ڈیلر ہے ، جسے سب انسپکٹر نعیم احمد تھانہ ایئرپورٹ کی چوکی حمیداں لے کر گیا ۔ پولیس آفیسر نے کسی قسم کی وجہ نہیں بتائی اور بھائی کو پولیس عملے نے تشدد کا نشانہ بنایا ، جہاں بھائی نے موٹر سائیکل سے پیڑول نکال کر خود پر چھڑک لیا اور خود کو آگ لگا لی ۔

بعد ازاں نامعلوم پولیس آفیسر بھائی کو، جو کہ جلی ہوئی حالت میں تھا، پمز اسپتال چھوڑ گیا ۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ہوا ہے۔ فریقین کو دریافت کے لیے طلب کیاگیا تھا، جہاں مذکورہ شخص نے مبینہ خودکشی کی کوشش کی جب کہ تھانہ ائیرپورٹ کے ایس ایچ او ابراہیم بلوچ رابطے پر میسر نہ ہوسکے۔

دریں اثنا راولپنڈی پولیس نے اپنے مؤقف میں بتایا ہے کہ سی پی او کے حکم پر ایس ایس پی آپریشنز اور ڈی ایس پی کینٹ فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ اس حوالے سے باقاعدہ انکوائری بھی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق مذکورہ امجد خان کے خلاف اس کی سابقہ اہلیہ نے پولیس کو درخواست دی تھی کہ امجد خان نے ان کا ملکیتی ٹینکر دھوکا دہی سے فروخت کردیا ہے۔ مقامی پولیس نے حسب ضابطہ فریقین سے دریافت کیا تو بعد ازاں مذکورہ شخص کی بابت علاقے میں خود کو آگ لگانے کی کوشش کی اطلاع ملی۔

پولیس نے فوری موقع پر پہنچ کر مذکورہ شخص کو خود کو آگ لگانے سے روکا اور علاج معالجہ کے لیے اسپتال منتقل کیا۔ ترجمان کے مطابق راولپنڈی پولیس میرٹ اور شفافیت پر عمل پیرا ہے، انکوائری میں پولیس غفلت یا اختیارات سے تجاوز پائے جانے پر خود احتسابی کو یقینی بنایا جائے گا۔

Check Also

سانحہ گل پلازہ: لائٹ بند نہ ہوتی تو جانیں بچ سکتی تھیں: چیف فائر افسر کے کمیشن کے سامنے سنسنی خیز انکشافات

کراچی: چیف فائر آفیسر نے سانحہ گل پلازہ پر بنے جوڈیشل کمیشن کے روبرو انکشاف …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *